کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 361 of 630

کتاب البریہ — Page 361

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۶۱ گواہی بھی دے دی کہ ہم نے یسوع کو آسمان پر چڑھتے بھی دیکھا گویا رفع الى الله ہو گیا۔ جس سے مومن ہونا ثابت ہوتا ہے۔ مگر یہ گواہی جھوٹی تھی جو نہایت مشکل کے وقت بنائی گئی ۔ بات یہ ہے کہ جب یہود نے حواریوں کو ہر روز دق کرنا شروع کیا کہ بوجہ مصلوبیت یسوع کا لعنتی ہونا ثابت ہو گیا یعنی رفع الی اللہ نہیں ہوا۔ تو اس اعتراض کے جواب سے عیسائی نہایت تنگ آگئے اور ان کو یہودیوں کے سامنے منہ دکھلانے کی جگہ نہ رہی تب بعض مفتری حیلہ سازوں نے یہ گواہی دے دی کہ ہم نے یسوع کو آسمان پر چڑھتے (۲) دیکھا ہے پھر کیونکر اس کا رفع نہیں ہوا۔ مگر اس گواہی میں گو بالکل جھوٹ سے کام لیا تھا مگر پھر بھی ایسی شہادت کو یہودیوں کے اعتراض سے کچھ تعلق نہ تھا کیونکہ یہودیوں کا اعتراض رفع روحانی کی نسبت تھا جس کی بنیا د توریت پر تھی اور رفع جسمانی کی کوئی بحث نہ تھی ۔ اور ماسوا اس کے جسمانی طور پر اگر کوئی بفرض محال پرندوں کی طرح پرواز بھی کرے اور آنکھوں سے غائب ہو جائے تو کیا اس سے ثابت ہو جائے گا کہ وہ درحقیقت کسی آسمان پر جا پہنچا ہے؟ عیسائیوں کی یہ سادہ لوحی تھی جو انہوں نے ایسا منصوبہ بنایا۔ ور نہ اس کی کچھ ضرورت نہ تھی۔ ساری بحث روحانی رفع کے متعلق تھی جس سے لعنت کا مفہوم روکتا تھا۔ افسوس ان کو یہ خیال نہ آیا کہ توریت میں جو لکھا ہے جو مصلوب کا رفع الی اللہ نہیں ہوتا تو یہ تو بچے نبیوں کی عام علامت رکھی گئی تھی اور یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ صلیبی موت جرائم پیشہ کی موت ہے اور بچے نبیوں کے لئے یہ پیشگوئی تھی کہ وہ جرائم پیشہ کی موت سے نہیں مریں گے۔ اسی لئے حضرت آدم سے لے کر آخر تک کوئی سچا نبی مصلوب نہیں ہوا۔ پس اس امر کو رفع جسمانی سے کیا علاقہ تھا ورنہ لازم آتا ہے کہ ہر ایک سچا نبی معہ جسم عنصری آسمان پر گیا ہو۔ اور جو جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر نہ گیا ہو وہ جھوٹا ہو ۔ غرض تمام جھگڑا رفع روحانی میں تھا ۔ جو چھ سو برس تک فیصلہ نہ ہو سکا۔ آخر