کتاب البریہ — Page 358
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۵۸ بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّى پنجاب اور ہندوستان کے مشائخ اور صلحاء اور اہل اللہ باصفا سے حضرت عزت اللہ جل شانہ کی قسم دے کر ایک درخواست اے بزرگان دین و عباداللہ الصالحین میں اس وقت اللہ جل شانہ کی قسم دے کر ایک ایسی درخواست آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں جس پر توجہ کرنا آپ صاحبوں پر رفع فتنہ وفساد کے لئے فرض ہے۔ کیونکہ آپ لوگ فراست اور بصیرت رکھتے ہیں۔ اور نہ صرف اٹکل سے بلکہ نور اللہ سے دیکھتے ہیں اور اگر چہ ایسے ضروری امر میں جس میں تمام مسلمانوں کی ہمدردی ہے اور اسلام کے ایک بڑے بھاری تفرقہ کو مٹانا ہے قسم کی کچھ بھی ضرورت نہیں تھی مگر چونکہ بعض صاحب ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اپنے بعض مصالح کی وجہ سے خاموش رہنا پسند کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ کچی شہادت میں عام لوگوں کی ناراضگی متصور ہے اور جھوٹ بولنے میں معصیت ہے اور نہیں سمجھتے کہ اخفاء شہادت بھی ایک معصیت ہے ان لوگوں کو توجہ دلانے کے لئے قسم دینے کی ضرورت پڑی۔ اے بزرگان دین وہ امر جس کے لئے آپ صاحبوں کو اللہ جل شانہ کی قسم دے کر اس کے کرنے کے لئے آپ کو مجبور کرتا ہوں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے عین ضلالت اور فتنہ کے وقت میں اس عاجز کو چودھویں صدی کے سر پر اصلاح خلق اللہ کے لئے مجد دکر کے بھیجا۔ اور چونکہ اس صدی کا بھارا فتنہ جس نے اسلام کو نقصان پہنچایا تھا ، عیسائی پادریوں کا فتنہ تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس عاجز کا نام مسیح موعود رکھا ۔ اور یہ نام یعنی مسیح موعود وہی نام ہے جس کی ہمارے