کتاب البریہ — Page 343
۳۴۳ روحانی خزائن جلد ۱۳ ان کتابوں کے دیکھنے کے بعد ہر ایک شخص اس نتیجہ تک پہنچ سکتا ہے کہ جو شخص برابر ۷﴾ اٹھارہ برس سے ایسے جوش سے کہ جس سے زیادہ ممکن نہیں گورنمنٹ انگلشیہ کی تائید میں ایسے پُر زور مضمون لکھ رہا ہے اور ان مضمونوں کو نہ صرف انگریزی عملداری میں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی شائع کر رہا ہے کیا اس کے حق میں یہ گمان ہو سکتا ہے کہ وہ اس گورنمنٹ محسنہ کا خیر خواہ نہیں؟ گورنمنٹ متوجہ ہو کر سوچے کہ یہ مسلسل کا رروائی جو مسلمانوں کو اطاعت گورنمنٹ برطانیہ پر آمادہ کرنے کے لئے برابر اٹھارہ برس سے ہو رہی ہے اور غیر ملکوں کے لوگوں کو بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ ہم کیسے امن اور آزادی سے زیر سایہ گورنمنٹ لذا از ندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ کارروائی کیوں اور کس غرض سے ہے اور غیر ملک کے لوگوں تک ایسی کتابیں اور ایسے اشتہارات کے پہنچانے سے کیا مدعا تھا؟ گورنمنٹ تحقیق کرے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ ہزاروں مسلمانوں نے جو مجھے کافر قرار دیا اور مجھے اور میری جماعت کو جو ایک گروہ کثیر پنجاب اور ہندوستان میں موجود ہے ہر ایک طور کی بد گوئی اور بداندیشی سے ایذا دینا اپنا فرض سمجھا اس تکفیر اور ایڈا کا ایک مخفی سبب یہ ہے کہ ان نادان مسلمانوں کے پوشیدہ خیالات کے برخلاف دل و جان سے گورنمنٹ انگلشیہ کی شکر گزاری کے لئے ہزار ہا اشتہارات شائع کئے گئے اور ایسی کتابیں بلا دعرب و شام وغیرہ تک پہنچائی گئیں؟ یہ باتیں بے ثبوت نہیں اگر گورنمنٹ توجہ فرمادے تو نہایت بدیہی ثبوت میرے پاس ہیں۔ میں زور سے کہتا ہوں اور میں دعوے سے گورنمنٹ کی خدمت میں اعلان دیتا ہوں کہ باعتبار مذہبی اصول کے مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے گورنمنٹ اول درجہ کا وفادار اور جان شار یہی نیا فرقہ ہے جس کے اصولوں میں سے کوئی اصول گورنمنٹ کے لئے خطرناک نہیں۔ ہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ میں نے بہت سی مذہبی کتابیں تالیف کر کے عملی طور پر اس بات کو بھی دکھلایا ہے کہ ہم لوگ سکھوں کے عہد میں کیسے مذہبی امور میں مجبور کئے گئے اور فرائض دعوت دین اور تائید اسلام سے روکے گئے تھے۔ اور پھر اس گورنمنٹ محسنہ کے وقت میں کس قدر مذہبی آزادی بھی ہمیں حاصل ہوئی کہ ہم پادریوں کے ہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے گورنمنٹ کا ہونا چاہیے۔ (ناشر )