کتاب البریہ — Page 336
روحانی خزائن جلد ۱۳ إِذَا وقع العبد في الهانية الرب و مهيمنيّة الصدّيقين و رهبانية الابرار لم يجد احدًا يَأْخُذُ بقَلبه - یعنی جب کسی بندہ کے دل میں خدا کی عظمت اور اس کی محبت بیٹھ جاتی ہے اور خدا اس پر محیط ہو جاتا ہے جیسا کہ وہ صدیقوں پر محیط ہوتا ہے اور اپنی رحمت اور خاص عنایت کے اندر اس کو لے لیتا ہے۔ اور ابرار کی طرح اس کو غیروں کے تعلقات سے چھڑا دیتا ہے تو ایسا بندہ کسی کو ایسا نہیں پاتا کہ اپنی عظمت یا وجاہت یا خوبی کے ساتھ اس کے دل کو پکڑ لے۔ کیونکہ اس پر ثابت ہو جاتا ہے کہ تمام عظمت اور وجاہت اور خوبی خدا میں ہی ہے۔ پس کسی کی عظمت اور جلال اور قدرت اس کو تعجب میں نہیں ڈالتی اور نہ اپنی طرف جھکا سکتی ہے۔ سو اس کو دوسروں پر صرف رحم باقی رہ جاتا ہے۔ خواہ بادشاہ ہوں یا شہنشاہ ہوں۔ کیونکہ اس کو ان چیزوں کی طمع باقی نہیں رہتی جو ان کے ہاتھ میں ہیں۔ جس نے اس حقیقی شہنشاہ کے دربار میں ہار پا یا جس کے ہاتھ میں ملکوت السموات والارض ہے پھر فانی اور جھوٹی بادشاہی کی عظمت اس کے دل میں کیونکر بیٹھ سکے؟ میں جو اس ملیک مقتدر کو پہچانتا ہوں تو اب میری روح اس کو چھوڑ کر کہاں اور کدھر جائے ؟ یہ روح تو ہر وقت یہی جوش مار رہی ہے کہ اے شاہ ذوالجلال ابدی سلطنت کے مالک سب ملک اور ملکوت تیرے لئے ہی مسلم ہے۔ تیرے سوا سب عاجز ہندے ہیں بلکہ کچھ بھی نہیں۔ آن کس که بتو رسد شهانرا چه کند با فر تو فر خسروان را چه کند چون بنده شنا ختت بدان عز و جلال بعد از تو جلال دیگران را چه کند دیوانہ کنی ہر دو جهانش بخشی دیوانہ تو ہر دو جهان را چه کند الراقم میرزا غلام احمد از قادیان ۲۵ جون ۱۸۹۷ء مطبوعہ ضیاء الاسلام ( قادیان)