کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 327 of 630

کتاب البریہ — Page 327

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۲۷ ہے جس کے عذاب کے لئے کوئی پیشگوئی نہیں کی جاتی ۔ مگر وہ نادان نہیں سمجھتے کہ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ کفار کے فسق و فجور اور بت پرستی اور انسان پرستی کی سزا دینے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک دوسرا عالم رکھا ہوا ہے جو مرنے کے بعد پیش آئے گا۔ اور ایسی قوموں کو جو خدا پر ایمان نہیں رکھتیں اسی دنیا میں مورد عذاب کرنا خدا تعالیٰ کی عادت نہیں ہے بجز اس صورت کے کہ وہ لوگ اپنے گناہ میں حد سے زیادہ تجاوز کریں اور خدا کی نظر میں سخت ظالم اور موذی اور مفسد ٹھہر جائیں۔ جیسا کہ قوم نوح اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ مفسد قو میں متواتر بیباکیاں کر کے مستوجب سزا ہوگئی تھیں ۔ لیکن خدا تعالیٰ مسلمانوں کی بیبا کی کی سزا کو دوسرے جہان پر نہیں چھوڑتا۔ بلکہ مسلمانوں کو ادنی ادنی قصور کے وقت اسی دنیا میں تنبیہ کی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے آگے ان بچوں کی طرح ہیں جن کی والدہ ہر دم جھڑ کیاں دیکر انہیں ادب سکھاتی ہے۔ اور خدا تعالیٰ اپنی محبت سے چاہتا ہے کہ وہ اس نا پائیدار دنیا سے پاک ہو کر جائیں۔ یہی باتیں تھیں کہ میں نے نیک نیتی سے سفیر روم پر ظاہر کی تھیں ۔ مگر افسوس کہ بیوقوف مسلمانوں نے ان باتوں کو اور طرف بھینچ لیا ۔ ان نادانوں کی ایسی مثال ہے کہ جیسے ایک حاذق ڈاکٹر کہ جو تشخیص امراض اور قواعد حفظ ماتقدم کو بخوبی جانتا ہے وہ کسی شخص کی نسبت کمال نیک نیتی سے یہ رائے ظاہر کرے کہ اس کے پیٹ میں ایک قسم کی رسولی نے بڑھنا شروع کر دیا ہے۔ اور اگر ابھی وہ رسولی کائی نہ جائے تو ایک عرصہ کے بعد اس شخص کی زندگی اس کے لئے وبال ہو جائے گی۔ تب اس بیمار کے وارث اس بات کو سن کر اس ڈاکٹر پر سخت ناراض ہوں اور اس ڈاکٹر کے قتل کر دینے کے درپے ہو جائیں ۔ مگر رسولی کا کچھ بھی فکر نہ کریں۔ یہاں تک کہ وہ رسولی بڑھے اور پھولے اور تمام پیٹ میں پھیل جائے اور اُس بیچارے بیمار کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔سو یہی مثال ان لوگوں کی ہے جو اپنی دانست میں سلطان کے خیر خواہ کہلاتے ہیں۔