کتاب البریہ — Page 326
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۲۶ ہر ایک مسلمان عظمند بھلا مانس نیک فطرت جو اپنی شرافت سے سچی بات کو قبول کرنے کے لئے طیار ہوتا ہے۔ اس بات کو متوجہ ہو کر سنے کہ ہم کسی ادنیٰ سے ادنی مسلمان کلمہ گو سے بھی کینہ نہیں رکھتے چہ جائیکہ ایسے شخص سے کینہ ہو جس کی ظل حمایت میں کروڑ ہا اہل قبلہ زندگی بسر کرتے ہیں اور جس کی حفاظت کے نیچے خدا تعالیٰ نے اپنے مقدس مکانوں کو سپرد کر رکھا ہے۔ سلطان کی شخصی حالت اور اس کی ذاتیات کے متعلق نہ ہم نے کبھی کوئی بحث کی اور نہ اب ہے۔ بلکہ اللہ جل شانہ جانتا ہے کہ ہمیں اس موجود سلطان کے بارے میں اس کے باپ دادے کی نسبت زیادہ حسن ظن ہے۔ ہاں ہم نے گذشتہ اشتہارات میں ترکی گورنمنٹ پر بلحاظ اس کے بعض عظیم الدخل اور خراب اندرون ارکان اور عمائد اور وزراء کے نہ بلحاظ سلطان کی ذاتیات کے ضرور اس خدا داد نور اور فراست اور الہام کی تحریک سے جو ہمیں عطا ہوا ہے چند ایسی باتیں لکھی ہیں جو خود ان کے مفہوم کے خوفناک اثر سے ہمارے دل پر ایک عجیب رقت اور درد طاری ہوتی ہے۔ سو ہماری وہ تحریر جیسا کہ گندے خیال والے سمجھتے ہیں کسی نفسانی جوش پر مبنی نہ تھی۔ بلکہ اس روشنی کے چشمہ سے نکلی تھی جو رحمت الہی نے ہمیں بخشا ہے۔ اگر ہمارے تنگ ظرف مخالف بدظنی پر سرنگوں نہ ہوتے تو سلطان کی حقیقی خیر خواہی اس میں نہ تھی کہ وہ چوہڑوں اور چماروں کی طرح گالیوں پر کمر باندھتے ۔ بلکہ چاہیے تھا کہ آیت وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم لے پر عمل کر کے اور نیز آیت إِنَّ بَعْضَ الظَّنِ الم سے کو یاد کر کے سلطان کی خیر خواہی اس میں دیکھتے کہ اس کے لئے صدق دل سے دعا کرتے۔ میرے اشتہار کا بجز اس کے کیا مطلب تھا کہ رومی لوگ تقویٰ اور طہارت اختیار کریں کیونکہ آسمانی قضا و قدر اور عذاب سماوی کے روکنے کے لئے تقویٰ اور تو بہ اور اعمال صالحہ جیسی اور کوئی چیز قوی تر نہیں۔ مگر سلطان کے نادان خیر خواہوں نے بجائے اس کے مجھے گالیاں دینی شروع کر دیں اور بعضوں نے کہا کہ کیا سارے گناہ سلطان پر ٹوٹ پڑے اور یورپ مقدس اور پاک ا بنی اسرائیل: ۳۷ الحجرات :١٣