کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 323 of 630

کتاب البریہ — Page 323

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۲۳ اور ہماری جماعت کو چاہیئے کہ آئندہ ایسے اشخاص کے ملنے سے دستکش رہیں آسمانی سلسلہ سے دنیا پیار نہیں کرسکتی۔ المشتهر خاکسار میرزا غلام احمد قادیانی نقل اس خط کی جو سفیر نے لاہور سے ہماری ملاقات کی درخواست کیلئے بھیجا تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ جناب مستطاب معلى القاب قدوة المحققين قطب العارفین حضرت پیر دستگیر میرزاغلام احمد صاحب دام کراماتہ ۔ چوں اوصاف جمیلہ واخلاق حمیدہ آل ذات ملکوتی صفات در شہر لاہور بسمع ممنونیت و از مریدان سعادت انتسابان تقاریر و تصانیف عالیه آں نجسته مقام بدست احترام وممنونیت رسید لہذا سودائی زیارت دیدار ساطع الانوار سویداے دل شناوری را لبریز اشتیاق کرده است انشاء اللہ تعالی از لاهور بطریق امرتسر به خاکپائے روحانیت احتوای سامی خواهم رسید و در میں خصوص تلغراف بر حضور سراسر نور مقدس خواهم کشید۔ فقط حسین کامی سفیر مبر سلطان المعظم نقل اس خط کی جو سفیر کی طرف سے ناظم الہند ۵ ارمئی ۱۸۹۷ء میں چھپا ہے۔ بحضور سيد السادات العظام و فخر النجباء الكرام مولانا سید محمد ناظر حسین صاحب ناظم ادام الله فیوضه و ظل عاطفته - سیدی و مولائی ؟ التفات نامه ذات سامی شما بدست تبجیل واحترام ما رسید الحق ممنونیت غیر مترقبه عظمی بخشید - فدایت شوم که استفسارا حوال غرائب اشتمال کادیان و کادیانی (قادیان و قادیانی) را فرموده بودید اکنون ما بکمال تمکین ذیلاً بخدمت والا نہمت و عالی بیان و افاده میکنم که این شخص عجیب و غریب از صراط المستقیم اسلام برگشته قدم بردائره عليهم والضالین گذاشته و تزویر محبت حضرت خاتم النبیین را در پیش گرفته و بزعم باطل خویش باب رسالت را مفتوح دانسته است شائسته هزاران خنده است نوٹ:۔ غور کرنے کے لائق ہے کہ یہ القاب کس مذہب کے شخص کے لئے لکھا ہے ۔ منہ