کتاب البریہ — Page 315
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۱۵ رَسُولِهِ بسم الله الرحمن الرحیم میموریل نحمده ونصلى على رسوله الكريم بحضور نواب لیفٹننٹ گورنر صاحب بہادر بالقابه یہ میموریل اس غرض سے بھیجا جاتا ہے کہ ایک کتاب امهات المؤمنین نام ڈاکٹر احمد شاہ صاحب عیسائی کی طرف سے مطبع آرپی مشن پریس گوجرانوالہ میں چھپ کر ماہ اپریل ۱۸۹۸ء میں شائع ہوئی تھی اور مصنف نے ٹائٹل پہنچ کتاب پر لکھا ہے کہ یہ کتاب ابو سعید محمد حسین بٹالوی کی تحری اور ہزار روپیہ کے انعام کے وعدہ کے معارضہ میں شائع کی گئی ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل محرک اس کتاب کی تالیف کا محمد حسین مذکور ہے۔ چونکہ اس کتاب میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جن کو کوئی مسلمان سن کر رنج سے رک نہیں سکتا۔ اس لئے لاہور کی انجمن حمایت اسلام نے اس بارے میں حضور گورنمنٹ میں میموریل روانہ کیا تا گور نمنٹ ایسی تحریر کی نسبت جس طرح مناسب سمجھے کا رروائی کرے اور جس طرح چاہے کوئی تدبیر امن عمل میں لائے۔ مگر میں مع اپنی جماعت کثیر اور مع دیگر معزز مسلمانوں کے اس میموریل کا سخت مخالف ہوں اور ہم سب لوگ اس بات پر افسوس کرتے ہیں کہ کیوں اس انجمن کے ممبروں نے محض شتاب کاری سے یہ کارروائی کی ۔ اگر چہ یہ سچ ہے کہ كتاب أمهات المؤمنین کے مؤلف نے نہایت دل دکھانے والے الفاظ سے کام لیا ہے اور زیادہ تر افسوس یہ ہے کہ باوجود ایسی سختی اور بدگوئی کے اپنے اعتراضات میں اسلام کی معتبر کتابوں کا حوالہ بھی نہیں دے سکا مگر ہمیں ہرگز نہیں چاہیے کہ بجائے اس کے کہ ایک خطا کارکو نرمی اور آہستگی سے سمجھا دیں اور معقولیت کے ساتھ اس کتاب کا جواب لکھیں۔ یہ حیلہ سوچیں انجمن کا ایسے وقت میں میموریل بھیجنا جبکہ ہزار کا پی امہات مومنین کی مسلمانوں میں مفت تقسیم کی گئی اور خدا جانے کئی ہزار اور قوموں میں شائع کی گئی بیہودہ حرکت ہے کیونکہ اشاعت جس کا بند کرنا مقصود تھا کامل طور پر ہو چکی ہے ہے۔ منہ