کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 630

کتاب البریہ — Page 312

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۱۲ كتاب البرية عیسائی صاحبان نے نہایت زیادتی کی ہے۔ لیکن چونکہ صاحب مجسٹریٹ ضلع اس وقت مقدمہ ختم کر چکے تھے اس لئے میرے جواب کا وقت نہیں رہا تھا۔ اسی لئے میں نے مناسب سمجھا کہ محض حکام کی آگاہی کیلئے اور سراسر نیک نیتی سے نمونہ کے طور پر وہ سخت الفاظ جو اسلام کے مقابل پر پادری صاحبان ۲۲) اور آریہ صاحبان استعمال کرتے ہیں اس کتاب میں کسی قدر لکھوں مگر میں اس وقت بطور نصیحت اپنی جماعت کو خصوصاً اور تمام مسلمانوں کوعموماً کہتا ہوں کہ وہ اس طریق سخت گوئی سے اپنے تئیں بچاویں اور غیر قوموں کی باتوں پر پورے حوصلہ کے ساتھ صبر کر کے اپنے نیک اخلاق در گذر اور صبر کو گورنمنٹ پر ظاہر کریں اور ہر ایک قسم کے فتنہ سے مجتنب رہیں۔ ہاں معقول اور نرم الفاظ میں بے جا حملوں کا نہیں دیکھتے تھے وہ دیکھیں گے اور جو نہیں سمجھتے تھے وہ سمجھیں گے اور امن اور سلامتی کے ساتھ راستی پھیل جائے گی۔ یہی روح اور مغزان تمام پیشگوئیوں کا ہے جو مسیح موعود کے بارے میں ہیں۔ حدیثوں میں بہت صفائی سے بتلایا گیا ہے کہ اس کی تلوار اس کے انفاس طیبہ ہیں یعنی کلمات حکمیہ سوان انفاس سے ملل باطلہ ہلاک ہو جائیں گی۔ جن جن مقامات تک اس کی نظر پہنچے گی یعنی جن جن مذاہب پر وہ اپنی توجہ مبذول کرے گا انہیں میں ڈالے گا اور دلوں کو حق کی طرف پھیر دے گا۔ وہ کسی اہل مذہب کو نقصان نہیں پہنچائے گا بلکہ لطف اور نرمی کے ساتھ جھوٹ کا جھوٹ ہونا ظاہر کر دے گا۔ تب عمو مدلوں میں روشنی پیدا ہو جائے گی اور وہ سمجھ جائیں گے کہ ہمارے یہ عقائد دراصل صحیح نہ تھے جب تم دیکھو کہ اس خدائے بزرگ اور مبارک کو سچا خدا سمجھنے کے لئے دل متحرک ہو گئے ہیں جو قرآن شریف نے پیش کیا ہے یعنے وہی خدا جو تمام خوبیاں اپنی ذات میں رکھتا ہے جس کا ماننے والا کبھی شرمندہ نہیں ہو سکتا تب تم سمجھو کہ وہ وقت نزدیک ہے کہ جب یہ سب باتیں پوری ہوں گی۔ موسم بہار کی ابتدا میں دیکھتے ہو کہ پہلے درختوں کی خشک اور بد نما لکڑی خوش رنگ اور تر و تازہ ہو جاتی ہے اور پھر ذرہ ذرہ پتے نکلتے ہیں اور پھر پھول آتا ہے اور آخر درخت پھلوں سے بھر جاتے ہیں۔ پس یقینا سمجھو کہ ان دنوں میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ اور یہ جو الہام انہی میں اصحاب الصفہ کی تعریف کی گئی سیہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یقین میں محبت میں معرفت میں وہی لوگ زیادہ ترقی کریں گے جو اکثر پاس رہیں گے اور خدا ان سے پیار کرے گا اور وہ کبھی ٹھوکر نہیں کھائیں گے اور وہ ترقی کریں گے اور ان کے دل رقت سے بھر جائیں گے۔ غرض خدا کے نزدیک وہی خاص درجہ کے لوگ ہیں جن کو قرب اور ہمسائیگی اور ہم نشینی حاصل ہے۔ ۲۷۲ اتی طرح نصوص حدیثیہ میں متواتر بتلایا گیا ہے کہ وہ مسیح موعود عیسائیوں کی طاقت اور قوت کے وقت میں پیدا ہوگا۔ اس کے وقت میں ریل گاڑی ہوگی اور تار ہوگی اور نہریں نکالی جائیں گی اور پہاڑ چیرے