کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 630

کتاب البریہ — Page 295

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۹۵ اس کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ تم قطب الدین کا نام لے لو اور اس کی رہائش کی جگہ کا پتہ بتلایا۔ جب وکیل واپس آیا تو اس نے ایسا ہی بیان کر دیا اور یہ واقعہ ۱۳ / اگست کو جرح میں ٹھیک ٹھیک ظاہر ہو گیا۔ اس نے یہ بھی بیان کیا کہ پیشتر اس کے کہ وہ عدالت میں گیا پر یمد اس نے قطب الدین کا نام اس کی یعنی عبدالحمید کے ہاتھ کی ہتھیلی پر اس واسطے لکھ دیا کہ وہ اسے بھول نہ جائے ۔ مزید سوالات (۲۵۷) کرنے پر اس نے کہا کہ اس پنسل سے جو وکیل ڈاکٹر کلارک کے ہاتھ میں ہے اور پنسل مذکور کی طرف اشارہ کر کے کہا یہی ہے اور یہ وارث الدین کی ہے۔ یہ تسلیم کیا گیا کہ ایسا ہی ہے۔ شہادت میں اوّل دفعہ تو بمقام بٹالہ بیان کیا گیا تھا کہ عبدالحمید مرزا صاحب کے پاؤں پبلک میں دبایا کرتا تھا۔ عبدالحمید نے بیان کیا کہ یہ بات بھی وارث الدین کی ایجاد ہے۔ ڈاکٹر کلارک کا دوبارہ اظہار اسی کی درخواست پر لیا گیا۔ اس نے ان ترغیوں کی بابت جو عبدالحمید کو بیاس کے مقام پر اظہار لکھانے سے پیشتر دی گئی ہیں بیان کیا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ ایسی ترغیبیں میرے علم کے بغیر دی گئی ہوں اور میں نے ہرگز نہیں دیکھا کہ کوئی اس قسم کی بات کی گئی ہو۔ خواہ عبدالحمید کا پہلا بیان سچا ہے یا دوسرا۔ تاہم یہ بات ظاہر ہے کہ اس میں وجوہات کافی نہیں ہیں کہ مقدمہ ھذا میں مرزا غلام احمد کے برخلاف کارروائی کی جائے ۔ عبدالحمید جو بڑا گواہ ہے وہی شریک جرم ہے اور اُس نے دو مختلف بیان لکھوائے ہیں۔ ہمارا میلان اس خیال کی طرف ہے کہ فی الجملہ دوسرا بیان غالباً سچا ہے اور یہ کہ مرزا غلام احمد نے عبد الحمید کو ڈاکٹر کلارک کے پاس نہیں بھیجا اور نہ اس نے اس کو ڈاکٹر کلارک کے مارڈالنے کو سکھلایا ہے ۔ وجوہات حسب ذیل ہیں۔ (۱) خود عبدالحمید ایسی جانبازی اور ذمہ واری کے کام کے لائق نہیں وہ ایک لمبا بڑھا ہوا کمزور دل کا نوجوان ہے ۔ اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ اسی کے خیالات بدکاری تعلیم کی خوبیاں بیان کرنی اور اس کے اعجازی حقائق اور معارف اور انوار اور برکات کو ظاہر کرنے (۲۵۷) بقیه حاشیه سے جن سے قرآن شریف کا منجانب اللہ ہونا ثابت ہوتا ہے چنانچہ میری کتابوں کو دیکھنے والے اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ کتابیں قرآن شریف کے عجائب اسرار اور نکات سے پر ہیں