کتاب البریہ — Page 294
روحانی خزائن جلد ۱۳ خالد كتاب البرية بیٹھیں ۔ اس نے نورالدین مولوی کو قادیان میں اس غرض سے چٹھی لکھی تھی تا کہ ان کو معلوم ہو کہ اس ۲۵۶ کا ارادہ عیسائی بننے کا ہے۔ نورالدین نے اسے قادیاں تعلیم دی تھی اور اس کی بیماری کا علاج کیا تھا (یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اس نے بیرنگ چٹھی بھیجی تھی۔ نورالدین کہتا ہے کہ میں نے ایسی چٹھی کبھی نہیں لی ) عبدالرحیم نے اسے بٹالہ میں کہا تھا کہ وہ اس چٹھی بھیجنے کوکسی اور امر کی طرف منسوب کر دے یعنی یہ کہ اس نے نور الدین کو اس لئے چٹھی لکھی تھی کہ مرزا صاحب کو اس کا پتہ معلوم ہو جائے ۔ عبدالرحیم نے بٹالہ میں اسے یہ بھی کہا تھا کہ ٹھیک ہے کہ اس نے مرزا صاحب کو جانے سے پہلے گالیاں دی تھیں حالانکہ اس نے کوئی گالی نہیں دی تھی۔ امرتسر میں اس کو کہا گیا کہ تو یہ کہہ دینا کہ میرا دل اس واسطے بدل گیا کہ میں نے ڈاکٹر کلارک کو اچھا آدمی پایا۔ ۱۳ / تاریخ کو بوقت جرح عبدالحمید نے پہلی ہی بار مرزا غلام احمد صاحب کے ایک مرید قطب دین نام کا ذکر کیا جو امرتسر میں رہتا ہے اور کہا کہ میں سب سے پہلے قادیاں سے امرتسر میں پہنچتے ہی اس کے پاس گیا تھا اور قطب الدین نے ایک پتھر وزنی تھیں سیر جس کے ساتھ ڈاکٹر کلارک کو مار ڈالنا تھا مہیا کرنے کا ذمہ لیا تھا اور بعد اس کام کے ختم ہونے کے اس نے قطب الدین ہی کے پاس پناہ لینی تھی۔ عبدالحمید نے بیان کیا کہ یہ تمام تفصیل وارث الدین نے بٹالہ میں بتائی تھی اور اس نے قطب الدین کو اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ عبدالحمید نے یہ بھی بیان کیا کہ ڈاکٹر کلارک کے وکیل رام بھیج دت نامی نے اس سے کئی دفعہ بٹالہ میں سوالات کئے اور اس کے ایک ریمارک سے ہی قطب الدین کے ذکر کرنے کی ضرورت پڑی۔ وکیل نے اسے کہا تھا کہ تو پرندہ نہیں ہے تو نے کس طرح امرتسر سے بھاگ کر جانے کا ارادہ کیا تھا تمہارا ضرور اس جرم میں کوئی ساتھی ہوگا اور وہ کون ہے۔ عبدالحمید نے اس امر سے انکار کیا اس کے بعد وارث الدین بقیه حاشيه بہت دور ہو گیا تھا۔ سو میں ان ہی باتوں کا مجدد ہوں اور یہی کام ہیں جن کے لئے میں بھیجا گیا ہوں ۔ اور منجملہ ان امور کے جو میرے مامور ہونے کی علت غائی ہیں مسلمانوں کے ایمان کو قوی کرنا ہے اور ان کو خدا اور اس کی کتاب اور اس کے رسول کی نسبت ایک تازہ یقین بخشنا۔ اور یہ طریق ایمان کی تقویت کا دوطور سے میرے ہاتھ سے ظہور میں آیا ہے ۔ اول قرآن شریف کی