کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 292 of 630

کتاب البریہ — Page 292

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۹۲ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ فی الحقیقت مصیبت اور تکلیف میں تھا۔ عبدالحمید کو عدالت نے بین اگست پر دوبارہ طلب کیا اس نے کہا کہ جو بیان وہ اب کرنے لگا ہے صحیح ہے اور اس بیان کے کرنے میں اس کو کسی نے نہیں سکھلایا۔ یہ بات سچ ہے کہ وہ قادیاں میں گیا تھا اور کل دو ہفتے رہا اس کو بوجہ اس کے مشتبہ چال چلن کے نکال دیا گیا۔ اس نے مرزا صاحب کو کبھی گالیاں نہیں دیں مگر وہاں سے چلنے سے پیشتر اس کے مریدوں میں سے ایک کے ساتھ جھگڑا ہو گیا تھا۔ وہ امرتسر چلا گیا۔ اور کسی شخص سے کسی عیسائی واعظ کے مکان کا پتہ دریافت کیا۔ وہ اتفاقاً ایک شخص نورالدین امریکن مشن کے پاس بھیجا گیا۔ اس نے نورالدین کے آگے بیان کیا کہ وہ قادیاں سے آیا ہے۔ وہ فی الاصل ایک ہندور لیا رام نامی تھا پھر مسلمان ہو گیا اب وہ عیسائی ہونا چاہتا ہے۔ نورالدین نے اسے مسٹر گرے کے پاس بھیجا جس نے صرف اس شرط پر اسے لینا منظور کیا کہ وہ اپنا گزارہ آپ کرے اور کچھ گفتگو کے بعد اس کو نورالدین کے پاس واپس بھیج دیا مگر وہ اپنے ہی خرچ پر عیسائی ہونے پر طیار نہیں تھا نورالدین نے اس کو صلاح دی کہ وہ ڈاکٹر کلارک کے پاس جائے کیونکہ وہ اچھا آدمی ہے (ان میں سے اکثر بیانات کی تائید بعد ازاں ڈاکٹر گرے کی چٹھی کے مضمون اور نورالدین عیسائی کی شہادت سے ہوتی ہے ) وہ ڈاکٹر کلارک کے پاس چلا گیا جس نے اس کو عبدالرحیم کے حوالہ کر دیا۔ اور شہر کے شفا خانہ میں اسے کام کرنے کو دیا۔ وہ خیال کرتا ہے کہ عبدالرحیم نے اس پر شبہ کیا کیونکہ اس نے اس سے اصرار اور تاکید سے پوچھا کہ وہ قادیاں سے مشن میں کس واسطے آیا ہے اور اس نے ڈاکٹر کلارک کو بھی اس کے سامنے کہا کہ اس کا یقین ہے کہ عبدالحمید کسی شخص کو قتل کرنے آیا ہے بقیه حاشیه ثابت کر کے دکھلاؤں کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کمزور ہوگئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ ومراتب پر رکھتا ہے اور جیسا کہ اس کو بھروسہ دنیوی اسباب پر ہے یہ یقین اور یہ بھروسہ ہر گز اس کو خدا تعالیٰ اور عالم آخرت پر نہیں ۔ زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے۔ حضرت مسیح نے اسی حالت میں یہود ۲۵۵