کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 630

کتاب البریہ — Page 288

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۸۸ کتاب البرية اس نوجوان نے جانے سے پہلے غلام احمد کو علانیہ گالیاں نکالی تھیں ۔ اور تحقیقات سے ظاہر ہوا کہ نوجوان ایک مشہور خاندان مولویاں سکنہ جہلم سے ہے اس کا ایک چا جو برہان الدین غازی کے نام سے مشہور ہے مرزا صاحب کا مرید ہے۔ یہ پایا گیا کہ وہ گجرات اور پنڈی میں بطور متلاشی عیسائی کے رہتا رہا ہے مگر گجرات مشن سے زنا کاری اور دروغ گوئی کی وجہ سے نکال دیا گیا تھا۔ اس کا یہ بیان کہ وہ جنم سے برہمن ہے جھوٹا ہے اس کا اصلی نام عبدالحمید ہے۔ وہ قادیان میں سات برس تک نہیں رہا بلکہ صرف چند روز رہا۔ عبدالرحیم قاصد نے جو قادیان بھیجا گیا تھاڈاکٹر کلارک کی توجہ کو اس امر واقعہ کی طرف منتقل کیا کہ نوجوان کی آنکھ خونی معلوم ہوتی ہے اور چونکہ ڈاکٹر کلارک مجرمانہ علم قیافہ کا عالم ہے اس نے اس کی وضع قطع میں وہ خط وخال معلوم کئے جو اس کے قاتلانہ میلان کے شاہد تھے۔ مزید براں وہ ایک متعصب خاندان سے تعلق رکھتا ہے اس نے خیال کیا کہ (۲۵) چونکہ قادیاں میں عام طور سے گالیاں دی گئیں اور نیز اس خیال سے کہ عبدالحمید کو با وجود مولویوں کا رشتہ دار ہونے کے کمینہ کام کرنے کو دیا گیا ہے یہ مرزا صاحب کی طرف سے اس واسطے پیش بندی کے غرض اس تمام تحقیقات سے ثابت ہے کہ یسوع کا آسمان پر معہ جسم جانا ایک جھوٹا مسئلہ ہے جو عیسائیوں نے بنایا ہے۔ جس حالت میں عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ نعوذ باللہ یسوع جہنم میں جسم کے ساتھ نہیں گیا بلکہ محض روح گئی تھی تو وہ جسم جوجہنم کی سزا پا کر لعنت سے ابھی پاک نہیں کیا گیا وہ آسمان پر کیونکر چڑھ گیا۔ کہ تین دن جواعنت کے دن تھے یسوع جہنم کا عذاب بھگتا رہا ۔ اور کتاب راو زندگی مطبوعہ الہ آباد ۱۸۵۰ صفحه ۶۹ سطر ۸ میں لکھا ہے کہ یہ سزا اپنے گنہگار کی سزا) اکثر موت کے لفظ سے مذکور ہوتی ہے موت نہ صرف جسم کی بلکہ روح کی بھی نہ صرف دنیاوی بلکہ ابدی ۔ اور اسی کتاب راہ زندگی میں جو تالیف ڈاکٹر ہاج ڈی ڈی باشندہ امریکہ ہے لکھا ہے کہ لعنت اور موت اور غضب اور وہ سزا جو گنہگاروں کو ملے گی سب ایک ہی چیز ہیں اور پھر یہی اس عقیدہ کی تائید میں لکھتا ہے کہ صحیح نے کہا ہے کہ گنہ گار جہنم کی اس آگ میں جو بھی نہیں بجھے گی ڈالے جائینگے (مرقس ۹ باب (۴) منه بعض نادان عیسائی کہتے ہیں کہ یسوع ہا دس یعنی جہنم میں تحت الثر مٹی کے قیدیوں کو منادی کرنے گیا تھا مگر ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ لعنت کے دنوں کا کیا تقاضا تھا۔ کیا سزا اٹھانے کے لئے جانا یا نصیحت کے لئے ۔ ایک ملعون دوسرے کو کیا نصیحت کر سکتا ہے اور پھر دوزخیوں کو نصیحت کیا فائدہ کرے گی مرکز تو ہر ایک شخص را اور است کو سمجھ جاتا ہے اور اگر اس وقت کا سمجھنا کچھ چیز ہے تو پھر ایک بھی دوزخ میں نہیں رہ سکتا ۔ منہ ۲۵۱ حاشیه بقیه حاشیه در حاشیه