کتاب البریہ — Page 286
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۸۶ یہ میعاد ۴ ار ستمبر ۹۷ء کو ختم ہوگی ۔ ڈاکٹر کلارک بیان کرتا ہے کہ ۱۸۹۴ء سے اس نے غلام احمد سے خط و کتابت بند کر دی ہے اور یہ کہ اکثر رسالجات جن میں اس کا ذکر ہوتا ہے قادیاں سے اس کے پاس آتے رہے ہیں ۔ لیکن تھوڑے عرصہ سے وہ لگا تار سلسلہ بند ہو گیا ہے ۔ جس سے وہ استدلال کرتا ہے کہ تا وہ حفاظت سے بے فکر ہو جائے ڈاکٹر کلارک نے پیشگوئیوں کی ایک فہرست پیش کی ہے جو وقتاً فوقتاً منجانب مرزا غلام احمد شائع ہوتی رہیں جن میں بہت سے اشخاص کی نسبت موت اور نقصان کی پیش از وقت اطلاع دی گئی ہے ۔ ۱۶ جولائی ۹۷ کو ایک اٹھارہ سالہ نوجوان ڈاکٹر کلارک کے پاس امرتسر میں آیا اور کہا کہ اس کا نام عبدالمجید ہے اور وہ عیسائی ہونا چاہتا ہے وہ جنم سے برہمن تھا اس کا نام رلیا رام ولد رام چند سکنہ کھجوری دروازه شهر بٹالہ ہے ۔ وہ غلام احمد کے ہاتھ سے مذہب اسلام میں داخل ہوا۔ جب وہ پندرہ برس کا تھا۔ وہ ۱۳۹) سات برس تک قادیاں میں رہا اور غلام احمد کو برا آدمی سمجھ کر چلا آیا اور اب وہ عیسائی مذہب میں اصطباغ لینا چاہتا ہے ۔ ڈاکٹر کلارک کو شبہات فوراً پیدا ہوئے اس کو تعجب ہوا کہ اس قصہ کی مشابہت اس قصے سے ہے جو سکھر ام کے قاتل نے بیان کیا تھا۔ اس نے نوجوان کیونکہ لغت کے رو سے خوداعت ایک ایسا لفظ ہے جو دل سے متعلق ہے اور لعین اس حالت میں کسی کو کہا جاتا ہے کہ جب شیطان کی تمام خصلتیں اس کے اندر آ جاتی ہیں اور وہ مردود اور دشمن خدا ہو جاتا ہے تو کیا ایک دم کے لئے بھی یہ حالتیں حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے تجویز کر سکتے ہیں۔ بقیه حاشیه بقیه حاشیه در ہیں کہ صلیب کی سزا تو صرف چند گھنے تھی لیکن لعنت موت کے بعد تین دن تک رہی۔ اب ظاہر ہے کہ لعنت کے ایام میں کسی قسم کا عذاب یسوع کے شامل حال ہوگا اور وہ عذاب بجز دوزخ کے اور کوئی نہیں اور نیز جبکہ یسوع ) کا فرض تھا کہ وہ آپ سزا اٹھا کر خدا تعالیٰ کا عدل پورا کرے تو پھر اگر صرف دنیا کا چند گھنٹوں کا دکھ اس نے دیکھا اور جہنم میں نہیں گیا تو اس صورت میں خدا کا عدل کیونکر پورا ہوگا۔ حالانکہ انجیل متی کی تفسیر میں پادری عماد الدین لکھتے ہیں کہ " خدا مسیح کے دل کے سامنے سے ہٹ گیا تا کہ اپنی عدالت خوب پوری کرئے“۔ یعنی باعث لعنت یسوع کا دل تاریک ہو گیا۔ اور تفسیر کتاب اعمال ملقب به تذکرة الابرار مطبوعه ۱۸۷۹ء امریکن مشن پریس لودھیانہ میں مسیح کی نسبت یہ عبارت ہے " مسیح خداوند کا شکر ہو کہ اس نے شریعت کی