کتاب البریہ — Page 262
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۶۲ نور دین کے پاس ایک شخص ہندو تھا یا مسلمان کے کہنے پر کہا تھا کہ وہ عیسائی کرتا ہے۔ سب سے پہلے جب میں ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا تو میں نے نہیں کہا تھا کہ مرزا صاحب نے مجھے بھیجا ہے۔ اپنا پتہ کھجوری دروازے کا بھی میں نے خود بخود بتلایا تھا۔ یہ باتیں اس واسطے میں نے کی تھیں ۲۲۷کہ پہلے میں سکاچ مشن گجرات میں تھا۔ اور بوجہ بدچلنی مجھے نکالا گیا تھا اس غرض سے میں نے اپنے آپ کو ہندو ظاہر کیا تھا کہ پہلا حال معلوم نہ ہووے۔ مولوی نور دین کو چٹھی میں نے بیاس سے ضرور لکھی تھی کہ میں عیسائی دین کو اچھا سمجھتا ہوں۔ وارث دین ، بھگت پریم داس وعبدالرحیم نے مجھے کہا تھا کہ تو اس چٹھی کی بابت یہ کہنا کہ مرزا صاحب اور مولوی نور الدین ایک ہی ہیں۔ اس لئے ان کو چٹھی لکھی تھی کہ میرے حالات کی ان کو خبر ہو جائے۔ عبدالرحیم ۔ پریم داس اور وارث دین نے انارکلی میں مجھے سکھلایا تھا کہ یہ کہنا کہ مرزا صاحب کو گالیاں دے کر چلا آیا تھا۔ مرزا صاحب کے دو آدمیوں سے بوجہ ان کے نصیحت دینے کے میرا تکرار ضرور ہوا تھا۔ مگر مرزا صاحب کو میں نے کوئی گالی بر انہیں کہا۔ مجھے کوئی علم دو آدمیوں کا جو بیاس میں دیکھے جانے بیان کئے گئے ہیں نہیں ہے۔ سلطان ونڈ میں عبدالرحیم وغیرہ نے مجھے کہا تھا کہ تم یہ بات کہنا کہ ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر میری قیت قتل کرنے کی بدل گئی ہے۔ جب میرا اظہار ہو چکا تھا۔ مجھے کوٹھی امرتسر میں لے جا کر بند کر دیا تھا اور عبدالرحیم و وارث دین و پریم داس کہتے تھے کہ تم کو مرزا صاحب کا کوئی آدمی مار دے گا۔ ایسا ہی مسیح موعود کے وجود کی علت غائی احادیث نبویہ میں یہ بیان کی گئی ہے کہ ۲۲۷ وہ عیسائی قوم کے دجل کو دور کرے گا اور ان کے صلیبی خیالات کو پاش پاش کر کے دکھلا دے گا ۔ چنانچہ یہ امر میرے ہاتھ پر خدا تعالیٰ نے ایسا انجام دیا کہ عیسائی مذہب کے اصول کا خاتمہ کر دیا۔ میں نے خدا تعالیٰ سے بصیرت کا ملہ پا کر ثابت کر دیا کہ وہ لعنتی موت کہ جونعوذ باللہ حضرت مسیح کی طرف منسوب کی جاتی ہے جس پر تمام مدار صلیبی نجات کا ہے وہ کسی طرح حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی ۔ اور کسی طرح لعنت کا مفہوم کسی راستباز پر صادق نہیں آ سکتا۔ چنانچہ فرقہ پادریان اس جدید طرز