کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 235 of 630

کتاب البریہ — Page 235

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۳۵ نے یہ بھی کہا تھا کہ عبد الحمید قلی یعنی ٹوکری اٹھانے کا کام بھی کرتا ہے۔ گواہ کوسنایا گیا درست ہے۔ دستخط حاکم عبدالرحیم بقلم خود نقل تنه بیان عبدالرحیم با قرار صالح بصیغه فوجداری اجلای کپتان ایم ڈبلیوڈ نکلس صاحب بہاورڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپور سرکار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک بنام مرزا غلام احمد قادیانی جرم ۷ اضابطہ فوجداری تختمه بیان عبدالرحیم با قرار صالح دستخط حاکم مہر عدالت 15/8/97 ۱۳ اگست ۹۷ ء ۔ میں پہلے ہندو تھا نائی ۔ پھر مسلمان ہوا ۔ ۔ ۔ سال مسلمان رہا۔ ۱۱ را کتوبر ۹۶ء کو عیسائی ہوا۔ یکم فروری ۹۷ ء سے ڈاکٹر صاحب کے ماتحت ہوں ۔ کلام میں جو پُر حکمت ہے یہ فضول اور لغو اور بے تعلق جھگڑا شروع کیا جاتا۔ حالانکہ یہود کا یہ ۲۰۱۶ مدعا اور مقصود نہ تھا کہ حضرت مسیح کے رفع جسمانی میں بخشیں کریں اور ایسی بحث سے ان کو کچھ حاصل نہ تھا۔ ان کا تمام مقصد جس کے لئے ان کی قوم میں معاندانہ جوش پیدا ہوا تھا اور اب تک ہے صرف یہ تھا کہ وہ ان کے مصلوب ہونے سے یہ نتیجہ نکا لیں کہ ان کا روحانی رفع نہیں ہوا ۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی دانست میں ان کو صلیب دیا ۔ اور توریت میں اس بات کی صاف تصریح ہے کہ جو شخص لکڑی پر لٹکایا جائے یعنی صلیب دیا جائے وہ لعنتی ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب اس کو میسر نہیں ہوتا دوسرے لفظوں میں یہ کہ رفع الی اللہ نہیں ہوتا بلکہ اسفل السافلین میں گرایا جاتا ہے۔ پس یہ صلیب کا لفظ اور جو اس کا نتیجہ لعنت بیان کیا گیا ہے یہی پکار پکار گواہی دے رہا ہے کہ یہود کا تمام شور و غوغا اس وقت یہی تھا کہ صلیب ملنے سے مسیح کا امتی ہونا ثابت ہے اور لعنتی ہونے سے عدم رفع ثابت ۔ پس جو جھوٹا الزام لگایا گیا تھا۔ خدا نے اسی کا فیصلہ کرنا تھا۔ ہاں اگر مصلوب ہونے کا نتیجہ توریت کے رو سے یہ بیان کیا جا تا کہ جو شخص مصلوب ہو اس کا جسمانی رفع نہیں ہوتا تو ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ مسیح کو جسمانی طور پر آسمان پر پہنچا تا اور کچھ بھی شبہ نہ رہنے دیتا مگر اب تو یہ خیال سراسر بے تعلق