کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 630

کتاب البریہ — Page 234

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۳۴ لڑکے نے بپتسمہ پایا تھا۔ پھر مسلمان ہو گیا۔ اب قریباً آٹھ یوم سے چلا گیا ہے۔ تم اس کو اگر اچھا کھانا اور اچھے کپڑے دو گے تو تمہارے پاس ٹھہر جاوے گا۔ پھر میں نیچے مکان کے اتر آیا۔ تو ایک شخص جوان عمر سابق عیسائی نے جس کا نام سائید اس ہے اور ایک لڑکے نے کہا کہ عبد الحمید مرزا صاحب کو علانیہ گالیاں دے کر چلا گیا ہے۔ مرزا صاحب سوان آیات کی شان نزول یہی ہے کہ اس وقت کے یہود اور نصاریٰ حضرت مسیح کو ملعون خیال کرتے تھے اور نہایت ضروری تھا کہ ان شریروں اور احمقوں کی غلطی ظاہر کر کے ان کے جھوٹے الزام سے حضرت مسیح کویر می کر دیا جائے ۔ پس اس ضرورت کے لئے قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا اور جبکہ مصلوب نہ ہوا تو یہ اعتراض سرا سر غاظ مظہرا کہ خدا کی طرف اس کا رفع نہیں ہوا اور نعوذ باللہ وہ ملعون ہوا بلکہ خدا تعالیٰ نے اور مقربوں کی طرح اس کو بھی رفع کی خلعت سے ممتاز کیا اور خدا تعالی نے اس فیصلہ میں حضرت عیسی کے ملعون اور غیر مرفوع ہونے کے بارے میں عیسائیوں اور یہودیوں دونوں کو جھوٹا ٹھہرایا۔ اب اس تمام تحقیق سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی کی بریت اور ان کا صادق اور غیر کا ذب ہونا جسمانی رفع پر موقوف نہ تھا۔ اور جسمانی رفع کے نہ ہونے سے ان کا کا ذب اور ملعون ہونا لازم نہ آتا تھا ۔ کیونکہ اگر صادق اور مقرب الہی ہونے کے لئے جسمانی رفع کی ضرورت ہے تو ہمو جب عقیدہ ان نادان علماء کے لازم آتا ہے کہ صرف حضرت عیسی ہی خدا کے مقرب ہوں اور باقی تمام نبی جن کا جسمانی رفع جسم عصری کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف نہیں ہوا وہ نعوذ باللہ قرب الہی سے بے نصیب ہوں ۔ اور جبکہ جسمانی رفع کچھ شئے نہ تھا اور کسی نبی کے صادق اور مقرب الہی ہونے کے لئے جسمانی طور پر اس کا آسمان پر جانا ضروری نہ تھا تو کیونکر ممکن تھا کہ خدا کی ۲۰۰