کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 630

کتاب البریہ — Page 233

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۳۳ مرزا صاحب کے مکان حجرہ میں جہاں وہ رہتے ہیں چلا گیا۔ اور کسی شخص سے بات چیت نہیں کی ان سے کہا کہ ایک شخص رلا رام نام تھا جو مسلمان ہواعبدالمجید کے نام سے اب اپنے آپ کو بتلاتا ہے اس کا کیا حال ہے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ وہ ہندو سے مسلمان نہیں ہوا بلکہ پیدائشی مسلمان ہے جہلم کا رہنے والا ہے۔ برہان الدین کا بھتیجا ہے۔ راولپنڈی میں اس ۲۰۰ اور ایک ذرہ خدا کی محبت اس کے دل میں نہ رہے۔ اسی لئے لغت کے رو سے لعین شیطان ۱۹۹) کا نام ہے۔ پس ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بالکل اس تہمت سے پاک ہیں کہ نعوذ باللہ ان کا کو ملعون کہا جائے اور رفع الی اللہ سے ان کو بے نصیب سمجھا جائے ۔ لیکن عیسائیوں نے اپنی حماقت سے اور یہودیوں نے اپنی شرارت سے ان کو ملعون قرار دیا اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں لعنت کا لفظ رفع کے لفظ کی نقیض ہے۔ پس اس سے یہ لازم آیا کہ وہ نعوذ باللہ موت کے بعد خدا کی طرف نہیں بلکہ جہنم کی طرف گئے کیونکہ لعنتی یعنی وہ شخص جس کا خدا تعالی کی طرف رفع نہ ہوا وہ جہنم کی طرف جاتا ہے۔ یہ متفق علیہ اہل اسلام اور یہود کا عقیدہ ہے اسی لئے نصاری کو یہ عقیدہ رکھنا پڑا کہ حضرت عیسی مرنے کے بعد تین دن تک جہنم میں رہے۔ بہر حال ایک سچے نبی کی ان دونوں قوموں نے بڑی بے ادبی کی۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے چاہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو اس الزام سے بری کرے۔ پس اول تو خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ فرمایا کہ مسیح ابن مریم در حقیقت سچا نبی اور وجیہ اور خدا تعالیٰ کے مقربوں میں سے تھا۔ اور پھر یہود اور نصاریٰ کے اس وسوسہ کو بھی دور کیا کہ وہ مصلوب ہو کر لعنتی ہوا۔ اور فرمایا وَ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ سبة لهم لے اور یہ بھی فرما دیا کہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ الله کے پس اس طرح پر دو اعنت اور عدم رفع کی تہمت جو چھ سو برس سے یہود اور نصاری کی طرف سے ان پر درد کی گئی تھی اس کو دور فرمایا۔ النساء: ۱۵۸ ۲ النساء : ۱۵۹