کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 630

کتاب البریہ — Page 232

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۳۲ ۱۹۸ نقل بیان مشموله مثل اجلاسی کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب بہادر ڈ پٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپورہ سر کار دولت مدار بنام مرزا غلام احمد سکنہ قادیاں جرم ۷- اضابطہ فوجداری ۱۰ را گست ۹۷ بیان عبدالرحیم با قرار صالح مہر عدالت دستخط حاکم 10/8/97 ولد جے سنگھ ذات عیسائی ساکن حال امرتسر عمر سال بیان کیا کہ مجھے ڈاکٹر صاحب مستغیث نے عبد الحمید گواہ کے حالات دریافت کرنے کے واسطے تعینات کیا تھا۔ ۲۰ یوم 199 کے قریب اس بات کو ہوئے ہیں۔ بٹالہ میں میں نے دریافت کیا تو جو بیانات عبد الحمید نے کئے تھے سب جھوٹ پائے گئے ۔ دوسرے روز قادیاں میں مظہر گیا۔ وہاں سیدھا ملعونوں کی موت سے مرا یعنی مصلوب ہوا۔ کیونکہ بنی اسرائیل میں قدیم سے یہ رسم تھی کہ جرائم پیشہ اور قتل کے مجرموں کو بذریعہ صلیب ہی ہلاک کیا کرتے تھے۔ اس مناسبت سے صلیبی موت لعنتی موت شمار کی گئی تھی مگر عیسائیوں کو یہ بڑا دھو کہ لگا کہ انہوں نے اپنے پیر و مرشد اور نبی کو ملعون ٹھہرایا۔ وہ بہت ہی شرمندہ ہوں گے جب وہ اس بات میں غور کریں گے کہ لعنت کا مفہوم لغت کی رو سے اس بات کو چاہتا ہے کہ شخص ملعون در حقیقت خدا سے مرتد ہو گیا ہو ۔ کیونکہ لعنت ایک خدا کا فعل ہے اور یہ فعل انسان کے اس فعل کے بعد ظہور میں آتا ہے کہ جب انسان عمداً بے ایمان ہو کر خدا تعالیٰ سے تمام تعلقات توڑ دے اور خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اس سے بیزار ہو جائے۔ سو جب ایسے شخص سے خدا بھی بیزار ہو جائے اور اس کو اینی درگاہ سے رد کر دے اور اس کو دشمن پکڑے تو اس صورت میں اس مردود کا نام ملعون ہوتا ہے اور یہ امر ضروری ہوتا ہے کہ یہ شخص ملعون خدا سے بیزار ہو اور خدا تعالیٰ اس سے بیزار ہو اور شخص ملعون خدا تعالیٰ کا دشمن ہو جائے اور خدا تعالیٰ اس کا دشمن ہو جائے ۔ اور شخص ملعون خدا تعالیٰ کی معرفت سے بکلی بے نصیب ہو جائے اور اندھا اور گمراہ ہو جائے ہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” نے سال ہونا چاہیے۔(ناشر)