کتاب البریہ — Page 228
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۲۸ (۱۹۳) پہلے کبھی ایسا ارادہ میں نے نہیں کیا اور نہ کبھی مارنے پر مامور ہوا تھا۔ جب میں مسلمان تھا میں قتل کرنا جرم اور گناہ سمجھتا تھا مگر جب مرزا صاحب نے کہا کہ تم مقبول ہو جاؤ گے تو میرے خیال میں تبدیلی ہوئی اور پکا یقین ہو گیا کہ میں بہشت میں جاؤں گا اس سے پہلے کہ میں مرز اصاحب سے ملوں میرا اپنا خیال یہ تھا کہ قتل کرنا گناہ ہے۔ گو محمدی مذہب کے رو سے کسی کافرکو مارنا ثواب ہے۔ یہ بات قرآن میں درج ہے۔ میں نے خود پڑھا ہے ۔ ترجمہ لکھا ہوا دیکھ کر پڑھ یہود اور نصارٹی میں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت اختلاف تھا اور اب بھی ہے وہ اختلاف ان کے رفع روحانی کے بارے میں ہے۔ یہود نے صلیب دیئے جانے سے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ حضرت عیسی کا رفع روحانی نہیں ہوا اور نعوذ باللہ وہ ملعون ہیں۔ کیونکہ ان کے مذہب کے رو سے ہر ایک مومن کا مرنے کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے لیکن جو شخص صلیب کے ذریعہ سے مارا جائے اس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا یعنی وہ شخص لعنتی ہوتا ہے۔ پس یہودیوں کی یہی حجت تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام مصلوب ہو گئے اس لئے ان کا رفع روحانی نہیں ہوا اور وہ لعنتی ہیں اور نالائق عیسائیوں نے بھی تین دن کے لئے حضرت عیسی کو رفع سے محروم سمجھا اور لعنتی ٹھہرایا۔ اب قرآن شریف کا اس ذکر سے مدعا یہ ہے کہ حضرت عیسی کے روحانی رفع پر گواہی دے۔ سو اللہ تعالیٰ نے مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ " کہہ کر نفی صلیب کی اور پھر اس کا نتیجہ یہ نکالا کہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلیہ اور اس طرح پر جھگڑے کا فیصلہ کر دیا۔ ۱۹۵ اب انصا فا دیکھو کہ اس جگہ رفع جسمانی کا تعلق اور واسطہ کیا ہے ۔ یہودیوں میں سے اب تک لاکھوں تک زندہ موجود ہیں۔ ان کے عالموں فاضلوں کو پوچھ لو کہ کیا آپ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے مصلوب ہونے سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان کا رفع روحانی نہیں ہوا یا یہ کہ ان کا رفع جسمانی نہیں ہوا۔ ایسا ہی یہود یہ کہتے تھے کہ سچا مسیح اس وقت آئے گا کہ جب ایلیا نبی ملا کی کی پیشگوئی کے موافق دوبارہ دنیا میں آجائے گا۔ پھر جبکہ النساء: ۱۵۸ ۲ النساء : ۱۵۹