کتاب البریہ — Page 224
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۲۴ کے بعد جب میں بیاس گیا تو میرا ارادہ قتل کا بدل گیا تھا۔ پانچ چھ روز میں امرتسر رہا تھا۔ امرتسر ہسپتال کے ڈاکٹر کے ماتحت میں کام کرتا تھا اور تعلیم پاتا تھا۔ زخموں کو دھویا کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب سوائے ایک روز کے روز بروز ملا کرتے تھے ۔ دو دفعہ کوٹھی پر میں گیا تھا۔ اسی دفتر والے کمرہ میں مظہر ملا تھا۔ اسی طرح اکیلا ملا تھا جیسے کہ پہلے روز ملا تھا۔ ہر دفعہ ڈاکٹر صاحب پوچھتے تھے کہ تم کون تھے اور کہاں سے آئے ہو۔ میں نے پہلا بیان کر 19 دیا تھا۔ کوئی خاص ارادہ سوائے اس کے کہ بائیل صاحب سے لینی تھی اور نہ تھا۔ پہلی دفعہ کتاب مجھ کو دی گئی تھی مگر دوسری کی سی دوسری دفعہ کتاب مجھ کو دی گئی تھی ۔ بیاس تعلیم کے واسطے ڈاکٹر صاحب نے بھیج دیا تھا اور ڈاکٹر صاحب نے کہا تھا کہ مولوی عبد الرحیم ڈرتا ہے کہ تم اس کو مار نہ ڈالو۔ اس لئے بیاس چلے جاؤ اور لوگ بھی کہتے ہیں کہ تم خون کرنے آئے ہو۔ سوائے قطب الدین کے میں نے کسی سے ذکر نہیں کیا تھا کہ میں قتل کرنے کے ارادہ سے آیا ہوں۔ سانون سنگھ بیاس میرے ساتھ گیا تھا۔ ایک ہفتہ اس جگہ رہا تھا۔ تین چار روز کے بعد میں نے مولوی نور الدین کو چٹھی لکھی تھی ۔ ایک کوٹھی کس قدر خلاف نصوص صریح قرآن ہے جس پر ہمارے مخالف ناحق اصرار کر رہے ہیں۔ تیسرے یہ کہ قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ کسی انسان کا آسمان پر چڑھ جانا عادۃ اللہ کے مخالف ہے جیسا کہ فرماتا ہے قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا لیکن ہمارے مخالف حضرت عیسی کو ان کے جسم عصری کے ساتھ آسمان پر چڑھاتے ہیں۔ چوتھے یه که قرآن شریف صاف فرماتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں مگر ہمارے مخالف حضرت عیسی علیہ السلام کو خاتم الانبیاء بھہراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو صحیح مسلم وغیرہ میں آنے والے مسیح کو نبی اللہ کے نام سے یاد کیا ہے وہاں حقیقی نبوت مراد ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جب وہ اپنی نبوت हावाक کے ساتھ دنیا میں آئے تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر خاتم الانبیاء ٹھہر سکتے ہیں؟ نبی ہونے ا بنی اسرآئیل: ۹۴