کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 630

کتاب البریہ — Page 220

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۲۰ ۱۸۷ مل گیا اور اس کے ہاتھ میں مظہر آ گیا۔ اس نے مجھے قادیاں میں بھیج دیا۔ اور کہا کہ اول لا ہور شیخ رحمت اللہ کے پاس جاؤ۔ پھر قادیاں جانا۔ دوسرے تیسرے روز گجرات جانے کے بعد واقف ہوئے تھے۔ مجھے عیسائیوں نے نکال دیا تھا کرایہ راولپنڈی کا مجھے نہیں دیا۔ امیر الدین مجھے روز روز سمجھایا کرتا تھا کہ مرزا صاحب کے پاس جاؤ۔ وہ پڑھا ہوا ہے۔ جہلم اور گجرات میں اچھے اچھے مولوی ہیں۔ مگر کسی سے میں نے اپنے شکوک کی بابت نہیں پوچھا۔ مہینہ ڈیڑھ ماہ سے سوزاک ہو گیا۔ زیادہ آم کھانے سے کنجری بازی سے سوزاک نہیں ہوا۔ ڈنگہ میں عیسائی مذہب کی بابت لوگوں کو میں مسائل بتایا کرتا تھا۔ پہلے پہل قادیاں میں جو بلی سے ماہ ڈیڑھ ماہ پہلے گیا تھا۔ پانچ چھ دن وہاں رہا تھا۔ پھر لاہور اور وہاں سے جہلم گیا تھا۔ راستہ میں گجرات بھی ٹھہرا تھا۔ پادری صاحب کے پاس گیا تھا اور کہا تھا کہ قادیاں مرزا صاحب کے پاس سے ہو کر آیا ہوں مجھ سے محبت پیار کرتے تھے۔ پہلی دفعہ مرزا صاحب نے قتل کی بابت کچھ نہیں کہا تھا۔ گجرات کے پادری صاحب ناراض ہوئے تھے کہ کیوں قادیاں گئے ہو۔ میں نے کہا کہ میں بھول گیا معاف کرو۔ رکھتا ہے اور حدیث ان دونوں باتوں کی مصدق ہے۔ اور ساتھ ہی حدیث نبوی یہ بھی بتلا رہی (۱۸۷) ہے کہ آنے والا مسیح اس امت میں سے ہو گا گوکسی قوم کا ہو۔ تو اس جگہ طبعاً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ باوجود ایسی نصوص صریح کے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور آنے والے مسیح کے امتی ہونے پر دلالت کرتی تھیں پھر کیوں اس بات پر اجماع ہو گیا کہ در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام آخری زمانہ میں آسمان سے اتر آئیں گے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس امر میں جو شخص اجتماع کا دعوی کرتا ہے وہ سخت نادان یا سخت خیانت پیشہ اور دروغ گو ہے۔ کیونکہ صحابہ کو اس پیشگوئی کی تفاصیل کی ضرورت نہ تھی وہ بلا شبہ ہمو جب آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی اس بات پر ایمان لاتے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔ تبھی تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت اس بات کا احساس کر کے کہ بعض لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میں شک رکھتے ہیں زور سے یہ بیان کیا کہ