کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 630

کتاب البریہ — Page 217

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۱۷ کرتے تھے میں مٹھیاں بھرتا تھا۔ اور وہ مجھ سے پیار کیا کرتے تھے۔ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ ۳۰،۲۰ ثار کا پتھر اٹھا کر سوتے وقت یا اور موقعہ پا کر کلارک صاحب کو مارنا اور مار دینا۔ میں نے یہ سب حال قطب الدین کو بتلایا تھا۔ اور اس نے کہا تھا کہ بیشک تو یہ کام کر اور میرے پاس چلا آ۔ ( بسوال عدالت ) اس وقت برہان الدین اور سلطان محمود مجھ سے ناراض ہیں کہ میرا روپیہ وجائداد ان کے پاس ہے اور وہ دینا نہیں چاہتے ۔ مولوی نور الدین کے پاس اس واسطے خط بھیجا تھا کہ مرزا صاحب اور وہ ایک ہی ہیں۔ جب میں امرتسر ہسپتال میں تھا میرا کوئی تعلق قطب الدین سے نہیں رہا تھا اور نہ کسی کے پاس میں نے کوئی خط لکھا تھا۔ خط یا میں نے بیاس میں غیر معقول بات ہرگز مقصود نہ تھی کہ ایک نبی جو اپنی زندگی کے دن پورے کر کے عادۃ اللہ کے ﴿۱۸۴ موافق خدا تعالیٰ اور نعیم آخرت کی طرف بلایا گیا پھر وہ اس دار تکالیف اور دار الفتن میں بھیجا جائے گا اور وہ نبوت جس پر مہر لگ چکی ہے اور وہ کتاب جو خاتم الکتب ہے فضیلت ختمیت سے محروم رہ جائے گی۔ بلکہ نہایت لطیف استعارہ کے طور پر یہ پیشگوئی کی گئی کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ جب عیسائی لوگ اپنی مخلوق پرستی اور صلیب کے باطل خیالات میں انتہا درجہ کے تعصب تک پہنچ جائیں گے اور اپنی کمال تحریف اور دجل کی وجہ سے مسیح دجال ہو جائیں گے تب خدا تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کی اصلاح کے لئے ایک آسمانی مسیح پیدا کرے گا جو دلائل شافیہ سے ان کی صلیب کو تو ڑ دے گا۔ اس پیشگوئی کے سمجھنے میں اہل عقل اور تدبر کرنے والوں کے لئے کچھ بھی دقت نہ تھی کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ مقدسہ ایسے صاف تھے کہ خود اس مطلب کی طرف رہبری کرتے تھے کہ ہر گز اس پیشگوئی میں نبی اسرائیلی کا دوبارہ دنیا میں آنا مراد نہیں ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فر ما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے اپنی آیت کریمہ