کتاب البریہ — Page xxvi
12 اور آخر کار حاکم نے ۲۳؍ اگست کو یہ فیصلہ سنایا کہ ’’ہم کوئی وجہ نہیں دیکھتے کہ غلام احمد سے حفظِ امن کے لئے ضمانت لی جائے یا یہ کہ مقدمہ پولیس کے سپرد کیا جائے۔لہٰذا وہ بَری کئے جاتے ہیں۔‘‘ (۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ۳۰۱) اِ س طرح وہ پیشگوئی جس کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں بڑی آب و تاب سے پوری ہوئی کہ عیسائی گروہ کا مکر ہلا ک ہو جائے گا اور خدا تعالیٰ بس نہیں کرے گا اور باز نہیں آئے گا جب تک دشمن کے تمام مکروں کی پردہ دری نہ کرے۔اور اُن کے مکر کو ہلاک نہ کرے۔اور ہم حقیقت کو ننگا کر کے رکھ دیں گے اُس دن مومن خوش ہوں گے۔اِس پیشگوئی کے علاوہ اﷲ تعالیٰ نے مقدمہ سے تین دن پہلے یعنی ۲۹؍ جولائی ۱۸۹۷ ء کو جبکہ پادری اپنا خوفناک منصوبہ تیار کرنے میں مصروف تھے اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس ابتلاء کے متعلّق خبر دی۔حضرت اقدس علیہ السلام اپنی کتاب تریاق القلوب صفحہ ۹۱ میں اِس نشان کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔’’۲۹؍ جولائی ۱۸۹۷ ء کو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ ایک صاعقہ مغرب کی طرف سے میرے مکان کی طرف چلی آتی ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی آواز ہے اور نہ اُس نے کچھ نقصان کیا ہے بلکہ وہ ایک ستارہ روشن کی طرح آہستہ حرکت سے میرے مکان کی طرف متوجہ ہوئی ہے اور مَیں اُ س کو دُور سے دیکھ رہا ہوں۔اور جبکہ وہ قریب پہنچی تو میرے دل میں تو یہی ہے کہ یہ صاعقہ ہے مگر میری آنکھوں نے صرف ایک چھوٹا سا ستارہ دیکھا جس کو میرا دل صاعقہ سمجھتا ہے۔پھر بعد اس کے میرا دل اس کشف سے الہام کی طرف منتقل کیا گیا اور مجھے الہام ہوا کہ ماھٰذا الا تھدید الحکّام۔یعنی یہ جو دیکھا اِس کا بجز اس کے کچھ اثر نہیں کہ حکّام کی طرف سے کچھ ڈرانے کی کارروائی ہو گی اِس سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا۔پھر بعد اس کے الہام ہوا قد ابتلی المؤمنون۔ترجمہ :۔مومنوں پر ایک ابتلاء آیا یعنی بوجہ اِس مقدمہ کے تمہاری جماعت ایک امتحان میں پڑے گی۔‘‘