کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 214 of 630

کتاب البریہ — Page 214

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۱۴ ۱۸۱) کر چکو میرے پاس آنا میں قادیاں میں پہنچا دوں گا۔ ڈاکٹر صاحب کو مل کر اسی روز شام کو میں پھر واپس قطب الدین کے پاس گیا اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب سے مل آیا ہوں ۔ اس نے مجھے ڈاکٹر صاحب کی کوٹھی کا نشان و پستہ دیا تھا۔ مرزا صاحب مجھ سے بہت پیار کرتے تھے اور مجھ سے مٹھیاں بھروایا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ہماری بات (قتل) یاد ہے۔ میں کہا کرتا تھا کہ ہاں یاد ہے۔ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ کلارک صاحب رحم دل ہیں جب تم جاؤ گے وہ پاس رکھ لیں گے تم ان کے سونے اٹھنے بیٹھنے کے حالات دریافت کر کے جب موقعہ ملے پتھر مار کر یا اور طرح سے ہلاک جس حالت میں آج تک یہودیوں کی یہ تمنا پوری نہیں ہوئی کہ ایلیا نبی آسمان سے اتر تا اور اسی وجہ سے وہ حضرت عیسی علیہ السلام سے منکر رہے تو ان مولویوں کی تمنا کیونکر پوری ہو سکتی ہے کہ کسی وقت حضرت عیسی علیہ السلام خود آسمان سے نازل ہوگا۔ عقلمند وہ ہے جو دوسرے کے ٹھوکر کھانے سے عبرت پکڑے۔ یہودی جو حضرت عیسی پر ایمان لانے سے بے نصیب رہے اس کی یہی وجہ وہ آج تک بیان کرتے ہیں کہ ان کو وہی ملا کی نبی کی پیشگوئی تا کید اسنائی گئی تھی کہ جب ستک ایلیا نبی دوبارہ دنیا میں نہ آئے وہ مسیح نہیں آئے گا جس کا ان کو وعدہ دیا گیا تھا اور یہ بھی لکھا تھا کہ وہ مسیح بادشاہ کی صورت میں ظاہر ہوگا ۔ مگر یہ دونوں پیشگوئیاں حضرت عیسی علیہ السلام پر صادق نہ آئیں۔ اسی لئے یہودی آج تک اسی بات کو روتے ہیں کہ ہم کیونکر یسوع بن مریم کو مان لیں۔ حالانکہ نہ ایلیا نہیں اس سے پہلے آیا اور نہ وہ بادشاہ کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اور بظاہر یہودی حق پر معلوم ہوتے ہیں کیونکہ ان کی کتابوں کے نصوص صریحہ سے یہی نکلتا ہے کہ در حقیقت مسیح سے پہلے ایلیا نبی آئے گا اور آخر مسیح بادشاہ ہو کر آئے گا۔ غرض یہ ایک ایسا مقدمہ تھا کہ مسیح موعود کے نزول اور دوسری علامات کو اس مقدمہ نے صاف کر دیا تھا اور منصفوں کے لئے ایلیا نبی کے نزول کی طر ز مسیح کے نزول کے لئے ایک تشفی بخش نظیر تھی ۔ مگر تعصب انسان کو نا بینا کر دیتا ہے ۔ زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ صحیح بخاری میں صاف لکھا تھا کہ اِمَامُكُمْ مِنْكُمُ یعنی وہ مسیح موعود