کتاب البریہ — Page 213
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۱۳ ساتھ کمرہ میں مرزا صاحب مجھے لے گئے اور کہا کہ ایک بات کہتا ہوں میں نے کہا دل و جان سے مانوں گا۔ مرزا صاحب کے مکان میں وہ کمرہ ہے۔ امرتسر میں ایک شخص (۱۸۰) قطب الدین مرید مرزا صاحب کا ہے۔ مرزا صاحب نے بتلایا تھا کہ تم اس کے پاس جانا۔ میں سیدھا اس کے پاس گیا تھا۔ امرتسر کرموں کی ڈیوڑھی میں برتنوں کا کام کرتا ہے ۔ آدھ گھنٹہ اس کے پاس ٹھہرا تھا۔ میں نے اس کو کہا تھا کہ مرزا صاحب نے مجھے کلارک صاحب کے قتل کے واسطے بھیجا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ اچھا جب تم یہ کام ایک حرف بھی ان میں سے پورا نہیں ہوا۔ یہی حجت یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آگے پیش کی تھی اور بار بار یہ جتلایا تھا کہ بچے مسیح سے پہلے ایلیا کا دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے نہ یہ کہ کوئی ۱۸۰ ) اس کا مثیل آوے کیونکہ ملا کی نبی کی کتاب میں ایلیا نبی کا بذاتہ واپس آنا لکھا ہے۔ یہ نہیں لکھا کہ اس کا کوئی مثیل آوے گا ۔ لیکن حضرت عیسی علیہ السلام نے ان کو یہ جواب دیا کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے سے مراد ان کے مثیل کا آتا ہے جو ان کی خو اور طبیعت پر ہو۔ اور بیان کیا کہ وہ شخص یوحنا ذکریا کا بیٹا یعنی بیٹی ہے۔ اور بادشاہی کی نسبت انہوں نے یہ تاویل کی تھی کہ " میری آسمانی بادشاہت ہے زمینی نہیں ہے“۔ اور ان تاویلوں کو یہودیوں نے نہایت بعید اور تکلفات رکیکہ سمجھا تھا اور اب تک یہی سمجھ رہے ہیں کیونکہ وہ اپنی کتابوں کے ظاہر الفاظ پر زور مارتے تھے اور بظاہر یہودی لوگ بیچ پر معلوم ہوتے تھے اس لئے کہ وہ لوگ کتب مقدسہ کے نصوص صریحہ پیش کرتے تھے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تاویلات سے کام لیتے تھے جور کیک اور خفیف معلوم ہوتی تھیں۔ ہمارے علماء بڑے خوش قسمت ہو تے اگر وہ ایلیا کے دوبارہ آنے کے قصے کو یاد کر کے اس سے نصیحت پکڑتے اور حضرت عیسیٰ کے آسمان سے دوبارہ نازل ہونے کے وہی معنے کرتے جو خود حضرت عیسی نے ایلیا نبی کے دوبارہ نازل ہونے کے معنے کئے ہیں ۔ کاش وہ اس بات کو سوچتے کہ یہ راقم جو نزول مسیح کے معنے کرتا ہے وہ نئے معنے نہیں ہیں بلکہ وہی معنے ہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی زبان سے پہلے نکل چکے ہیں کیونکہ نزول مسیح ابن مریم کا مقدمہ نزول ایلیا نبی کے مقدمہ سے بالکل ہم شکل ہے۔ پس (۱۸۱)