کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 630

کتاب البریہ — Page 212

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۱۲ دو تین روز وہاں رہا تھا۔ چالیس روپیہ چا لقمان کے گھر سے پہلی دفعہ لے آیا تھا۔ سنایا گیا درست ہے۔ عبدالحمید دستخط حاکم ۱۷۹ نقل نتنه بیان عبدالحمید مشمول مثل فوجداری با جلاس کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب بہادر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ مرجوعه فیصلہ نمبر بسته نمبر مقدمہ ۹ را گست ۹۷ زیر تجویز از محکمه ۳/۴ مہر عدالت دستخط حاکم 15/8/97 سر کار بذریعہ ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب جرم ۰۷ اضابطہ فوجداری بنام میرزاغلام احمد قادیانی تخمه بیان عبدالحمید با قرار صالح بسوال عدالت ۲ بجے دن نماز ظہر کے وقت مرزا صاحب نے مجھے کہا تھا کہ جاؤ کلارک صاحب کو مارو۔ مسجد کے دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے تو اس صورت میں حضرت عیسی علیہ السلام سچے نبی نہیں ٹھہر سکتے اور بچے اسی حالت میں ٹھہر سکتے ہیں کہ جب ایلیا نبی کے واپس آنے کی کوئی تاویل کی جائے۔ یعنی یہ کہ ایلیا کے دوبارہ آنے سے کسی مثیل ایلیا کا آنا مراد لیا جائے اور وہ مثیل یوجنا تھا یعنی یکی از کریا کا بیٹا ۔ جیسا کہ یہی تاویل یہودیوں کے مطالبہ کے وقت حضرت عیسی علیہ السلام نے بھی کی اور اس تاویل سے جو ایک نبی کے منہ سے ثابت ہوئی صاف طور پر واضح ہوتا ہے کہ مسیح کا دنیا میں دوبارہ آنا بھی ایلیا کے دوبارہ آنے کی مانند ہے۔ اور ایک نظیر جو قائم ہو چکی ہے اس سے منہ پھیرنا اور ظاہری معنے کر کے کئی تناقضات کو اپنے عقیدہ میں جمع کر لینا یہ ان لوگوں کا کام ہے جن کو عقل اور فہم سے بہت ہی کم حصہ ملا ہے۔ پیشگوئیوں پر اکثر مجازات اور استعارات غالب ہوتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ کوئی حماقت نہیں ہوگی کہ پیشگوئی سے کسی لفظ کو اس حالت میں بھی ظاہر پر حمل کیا جائے کہ جبکہ ظاہر پر حمل کرنے سے کئی تناقضات جمع ہو جاتے ہیں۔اسی عادت سے تو یہود ہلاک ہوئے۔ اور مسیح کے بارے میں ایسی ہی ایک اور پیشگوئی تھی کہ وہ بادشاہ ہوگا اور کافروں سے لڑے گا۔ سو یہودیوں نے اس سے بھی ٹھوکر کھائی کیونکہ حضرت مسیح کو ظاہری بادشاہت نہیں ملی ۔ اسی واسطے اب تک یہودی کہتے ہیں کہ جو مسیح کے حق میں پیشگوئیاں تھیں آج تک