کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 202 of 630

کتاب البریہ — Page 202

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۲۰۲ 19 کیا گیا تھا۔ اگر کوئی استغاثہ ہوتا تو ضروری نہ تھا کہ ہم کو اطلاع ہوتی ۔ عبدالرحیم حکمت کا کام کرتا ہے اور پریم داس ہمارا واعظ ہے۔ عبدالرحیم آٹھ نو ماہ سے ہمارے ماتحت ہے اور پریم داس سے اللہ سال سے سوال کس نے آپ کو مخفی طور پر اطلاع دی تھی کہ مرزا صاحب سے خبردار رہو۔ جواب۔ ہم اس سوال کا جواب دینے کے قابل نہیں ہیں۔ سوال ۔ کسی ہندو آریہ یا مسلمان یا عیسائی یا سرکاری افسر نے آپ کو خبر دار کیا ؟ جواب۔ اس سوال کا جواب باعث پشت در پشت کی غفلت اور نہ متنبہ کئے جانے کے غلطیوں میں پڑ گئے اور تا ان مجرموں کی راہ کھل جائے کہ جو ہدایت پہنچنے کے بعد بھی راہ راست کو قبول کرنا نہیں چاہتے ان کو کہہ دے کہ میں مامور من اللہ اور اول المومنین ہوں ۔ اور یہ الہام براہین احمدیہ میں چھپ چکا ہے جو اُن ہی دنوں میں جس کو آج اٹھارہ سال کا عرصہ ہوا ہے میں نے تالیف کر کے شائع کی تھی۔ اس کتاب کے الہامات پر نظر غور ڈالنے سے ہر ایک کو معلوم ہو جائے گا کہ خدا نے کیوں اور کس غرض سے مجھے اس خدمت پر مامور کیا۔ اور کیا حالت موجودہ زمانہ کی اور صدی کا سر اس بات کو چاہتا تھا یا نہیں کہ کوئی شخص ایسے غربت اسلام کے زمانہ اور کثرت بدعات اور سخت بارش بیرونی حملوں کے دنوں میں خدا تعالیٰ کی طرف سے تائید اور تجدید دین کے لئے آوے۔ اور اس جگہ یہ بات بھی ذکر کرنے کے لائق ہے کہ براہین احمدیہ کے زمانہ تک اس ملک کے اکثر علماء میرے دعوئی مجد د ہونے کی تصدیق کرتے تھے اور کم سے کم یہ کہ نہایت حسن ظن سے میرے الہامات پر بڑے بڑے سخت متعصبوں کو بھی کوئی جرح نہ تھی ۔ اور اکثر ان میں سے بڑی خوشی سے کہتے تھے کہ خدا نے اسلام کے لئے چودھویں صدی کو مبارک کیا کہ اپنی طرف سے ایک مجد دبھیجا اور بعض نے ان میں سے نہایت اخلاص سے براہین احمدیہ کا ریو یو بھی لکھا اور اس میں اس قدر میری تعریف کی کہ جس قدر ایک انسان کسی کامل درجہ کے راستباز اور پاک باطن اور خدا رسیدہ