کتاب البریہ — Page 195
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۹۵ جاری کیا ہم نے کوئی نیا استغاثہ ضلع گورداسپور میں نہیں کیا۔ روبروئے صاحب مجسٹریٹ ضلع کے قبل از شمن بنام ملزم کے جو چٹھی مولوی نورالدین کے نام عبدالمجید نے لکھی تھی ہم نے نہیں دیکھی۔ یوسف خاں سے سنا تھا کہ برہان الدین غازی ہے۔ یوسف برہان الدین کا پرانا دوست ہے۔ برہان الدین کو ہم نے کبھی نہیں دیکھا جو کچھ اس کی بابت ہم نے بیان کیا ہے یوسف خان کی زبانی ہے اور اس سے سنا ہوا ہے ہم کو ذاتی علم نہیں ہے۔ عبدالحمید کی جائداد نقدی و غیرہ کی بابت بھی سنی سنائی بات ہے پادری دیدار سنگھ صاحب سے سنا تھا ہم گھڑوں سے واقف ہیں ہم کو معلوم نہیں ہے کہ وہ نمک حلال گورنمنٹ کے ہیں یا نہ۔ ۳۱ / جولائی ۹۷ ء سے جو میری نسبت پیشگوئی مرزا صاحب نے کی تھی وہ حرف A جنگ مقدس میں صفحہ 4 پر درج ہے اور فریق کے لفظ میں ہم اپنے آپ کو شامل سمجھتے ہیں۔ اور دوم انجام آتھم کے صفحہ ۴۴ حرف F ہماری نسبت پیشگوئی موت (۱۶۳) کی، کی ہے پہلی پیشین گوئی میں پندرہ ماہ کی میعاد تھی جو گذر چکی ہے اور دوسری پیشگوئی کی تاریخ ۱۴ ستمبر ۹۷ ی تک ہے لیکن ایک اور اشتہار میں اس تاریخ کو وسعت دی گئی ہے حرف F ہماری نسبت میرے دل میں پھنس گیا۔ پس مجھے اس خدائے عزوجل کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے اس مبشرانہ الہام کو ایسے طور سے مجھے سچا کر کے دکھلایا کہ میرے خیال اور گمان میں بھی نہ تھا۔ میرا وہ ایسا متکفل ہوا کہ کبھی کسی کا باپ ہرگز ایسا متکفل نہیں ہوگا۔ میرے پر اس کے وہ متواتر احسان ہوئے کہ بالکل محال ہے کہ میں ان کا شمار کر سکوں ۔ اور میرے والد صاحب اسی دن بعد غروب آفتاب فوت ہو گئے ۔ یہ ایک پہلا دن تھا جو میں نے بذریعہ خدا ۱۶۳ کے الہام کے ایسا رحمت کا نشان دیکھا۔ جس کی نسبت میں خیال نہیں کر سکتا کہ میری زندگی میں کبھی منقطع ہو۔ میں نے اس الہام کو ان ہی دنوں میں ایک نگینہ میں کھدوا کر اس کی انگشتری بنائی جو بڑی حفاظت سے ابتک رکھی ہوئی ہے۔ غرض میری زندگی قریب قریب چالیس برس کے زیر سایہ والد بزرگوار کے گذری۔ ایک طرف ان کا دنیا سے اٹھایا جانا تھا اور ایک طرف بڑے زور شور سے سلسلہ مکالمات الہیہ کا مجھ سے شروع ہوا۔ میں کچھ بیان نہیں کر سکتا کہ