کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 630

کتاب البریہ — Page 190

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۹۰ مارنے آیا ہے میں اس کو تعلیم دوں گا۔ اور دوم ہم نے اس نوجوان کو اس واسطے رکھا کہ اگر کوئی شرارت بھی کرے تو اچھا ہے کہ ان کو لینے کے دینے پڑ جاویں (سوال۔ کیا آپ اپنی جان کی پر واہ نہیں کرتے ) یہ سوال بے تعلق ہے میں جواب نہیں دیتا۔ عبدالحمید کو جلال الدین ملازم شفاخانہ ہسپتال میں بعد گفتگو لے گیا تھا۔ کیونکہ اسی جگہ ہمارے طالب علم رہتے ہیں اور جلال الدین کو بھی ہم نے کہا تھا کہ عبدالحمید پر نظر رکھنا مگر کسی بھید سے واقف نہ کرنا ۔ کسی ۱۵۸ خاص بھید کا ذکر نہ تھا عام طور پر کہا تھا ۲۲ / جولائی ۹۷ کی شام تک عبد الحمید کو شفا خانہ میں رکھا گیا تھا۔۱۶ سے ۲۲ تاریخ تک شاید پیر کے دن ۱۹ار تاریخ ۴ ۵ بجے شام کے قریب ہماری کوٹھی پر آیا خواہ مخواہ آیا بلایا نہ تھا اور ادھر اُدھر جھانکتا تھا۔ میں نے برآمدہ میں اس کو ڈانٹا کہ کیوں بلا بلائے چلا آیا ہے جا چلا جا۔ اس وقت اس کے ہاتھ میں کوئی پتھر وغیرہ نہ تھا۔ ہمارے ڈاکٹر شفاخانہ نے ہم سے کہا تھا کہ عبدالحمید کو سوزاک ہے ڈاکٹر نے اس کا علاج کیا تھا۔ بیاس میں بھی ہمارے طالب علم ہیں اس لئے ہم نے مناسب سمجھا کہ وہاں اس کو بھیج دیا جاوے کو دیکھا کہ ایک بڑی شان کے ساتھ میرے مکان کی طرف چلے آتے ہیں جیسا کہ ایک عظیم الشان بادشاہ آتا ہے تو میں اُس وقت آپ کی طرف پیشوائی کے لئے دوڑ ا جب قریب پہنچا تو میں نے سوچا کہ کچھ نذر پیش کرنی چاہیے ۔ یہ کہہ کر جیب میں ہاتھ ڈالا جس میں صرف ایک روپیہ تھا اور جب غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ بھی کھوٹا ہے ۔ یہ دیکھ کر میں ۱۵۸ چشم پر آب ہو گیا اور پھر آنکھ کھل گئی ۔ اور پھر آپ ہی تعبیر فرمانے لگے کہ دنیا داری کے ساتھ خدا اور رسول کی محبت ایک کھوٹے روپیہ کی طرح ہے۔ اور فرمایا کرتے تھے کہ میری طرح میرے والد صاحب کا بھی آخر حصہ زندگی کا مصیبت اور غم اور حزن میں ہی گذرا اور جہاں ہاتھ ڈالا آخر نا کامی تھی اور اپنے والد صاحب یعنی میرے پردادا صاحب کا ایک شعر بھی سنایا کرتے تھے جس کا ایک مصرع راقم کو بھول گیا ہے اور دوسرا یہ ہے کہ ع کہ جب تدبیر کرتا ہوں تو پھر تقدیر ہنستی ہے"۔ اور یہ غم اور درد ان کا پیرانہ سالی میں