کتاب البریہ — Page 189
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۸۹ بھیجا تھا جس کا پتہ نہیں کون تھا۔ عبدالحمید نے مجھ سے کہا تھا جب وہ امرتسر آیا تھا کہ میں سات سال ہندو سے مسلمان ہوکر مرزا صاحب کے پاس رہا تھا اور تعلیم پاتا رہا تھا۔ مجھ کو یہ معلوم نہیں کہ برہان الدین ولقمان کے درمیان ناراضگی ہے یا نہ۔ برہان الدین جو خاندان کا سرگروہ مرزا صاحب کا مرید ہے۔ بجواب وکیل مدعا علیہ۔ عبدالمجید ۴۔۵ بجے شام کے میری کوٹھی پر ۱۶ جولائی ۹۷ کو مجھے آ کر ملا تھا۔ میں اپنے دفتر کے کمرے میں تھا۔ اس نے ہمارے پوچھنے پر کون ہو کیوں آئے ہو۔ اس نے اپنا نام وغیرہ سلسلہ وار بتلایا۔ آدھ گھنٹہ تک (۱۵۷) میرے پاس بیٹھا رہا تھا۔ جو کچھ اس نے مجھ سے گفتگو کی تھی وہ میں نے اپنے بیان میں لکھا دی۔ اس کے علاوہ اور کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔ عبدالحمید کے آتے ہی شکل دیکھ کر ہم کو اس کی نسبت شک ہوا کہ یہ وہ شخص ہے جس کو مرزا صاحب نے میرے قتل کے واسطے بھیجا ہے۔ میں نے کسی کو یعنی پولیس وغیرہ کو اطلاع نہیں دی۔ مگر اپنے لوگوں کو کہا کہ اس کو رکھو اور دھیان رکھو مگر اپنا پتہ اس کو نہ دو۔ عبدالحمید کے پاس کوئی ہتھیار اور کوئی چیز نہیں تھی۔ ہم نے کسی سے یہ ذکر نہیں کیا کہ ہمارا اشتباہ اس شخص کی نسبت ہے کہ وہ ہم کو قتل کرے گا ۔ باہر کمرے کے دو تین آدمی تھے مگر ہماری باتیں نہیں سنتے تھے ۔ میرا حق ہے کہ اگر کوئی شخص مارنے کے واسطے بھی آوے میں اس کو تعلیم عیسوی دوں خواہ ہم کو شبہ ہو کہ وہ عمر بگذشت و نماندست جز ایام چند به که در یاد کسے صبح کنم شامے چند اور میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ وہ ایک اپنا بنایا ہوا شعر رقت کے ساتھ پڑھتے تھے اور وہ یہ ہے۔ از در تو اے کس ہر سکے ۔ نیست امیدم که روم نا امید ۔ اور بھی درد دل سے یہ شعر اپنا پڑھا کرتے تھے۔ بآب دیدہ عشاق وخاکپائے کسے۔ مراد لے ست کہ درخوں تپد بجائے کسے۔ حضرت عزت ۱۵۷ جل شانہ کے سامنے خالی ہاتھ جانے کی حسرت روز بروز آخری عمر میں ان پر غلبہ کرتی گئی تھی بار ہا افسوس سے کہا کرتے تھے کہ دنیا کے بے ہودہ خرخشوں کے لئے میں نے اپنی عمر نا حق ضائع کر دی۔ ایک مرتبہ حضرت والد صاحب نے یہ خواب بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم