کتاب البریہ — Page 186
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۸۶ اس نے یہ بھی کہا کہ مولوی نور الدین کو اس سازش کا کچھ علم نہیں ہے اور نہ اس نے کبھی کچھ اس بارے میں کہا تھا۔ پریم داس کی زبانی ہم کو معلوم ہوا کہ اس نوجوان کے پیچھے دو آدمی اور پھرتے تھے اور ہمارا خیال لیکھرام کے قاتل کے نہ پائے جانے پر غور کر کے یہ تھا کہ وہ دو آدمی اس کو بھی مارڈالیں گے بعد اس کے کہ وہ مجھے قتل کرے۔ اس لئے ہم نے بڑے خرچ و احتیاط سے اس نوجوان لڑکے کی جان کی حفاظت کی ۔ ۳۱ / جولائی ۹۷ ء کو ہم اس کو پھر امرتسر لے گئے اور حکام ضلع کو اطلاع دیا۔ پھر تحقیقات ہوئی جس کا ہم کو حال معلوم نہیں ۔ ہم کو اندیشہ ہے کہ مرزا صاحب کی ایماء سے نقض امن ہونے کا احتمال ہے اور ہم کو اندیشہ ہے کہ وہ اور بھی سازشیں کرنا چاہتا ہے۔ جو پیشگوئی مرزا صاحب نے ہماری نسبت کی ہے وہ ہتک آمیز ہے اور ممکن ہے کہ ہماری طرف سے وہ نقض امن کرانا چاہتے ہیں کہ میں خودان بے عزتی کے الفاظ کو دیکھ کر نقض امن کروں ۔ ہم کو اپنی حفاظت کا اکثر انتظام کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ ہم ڈاکٹر ہیں ہم کو اکثر اوقات ہر قسم کے اشخاص سے تعلق پڑتا ہے اور اگر اس قسم کا ۱۵۵) اندیشہ لاحق حال رہے تو شاید نقض امن ہو جائے۔ ہمارے خیال میں آئندہ کے لئے مصروف پائیں۔ میں نے ملازمت پیشہ لوگوں کی جماعت میں بہت کم ایسے لوگ پائے کہ جو محض خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے اخلاق فاضلہ علم اور کرم اور عفت اور تواضع اور انکسار اور خاکساری اور ہمدردی مخلوق اور پاک باطنی اور اکل حلال اور صدق مقال اور پر ہیز گاری کی صفت اپنے اندر رکھتے ہوں ۔ بلکہ بہتوں کو تکبر اور بد چلنی اور لاپروائی دین اور طرح طرح کے اخلاق رذیلہ میں شیطان کے بھائی پایا۔ اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ ہر ایک قسم اور ہر ایک نوع کے انسانوں کا مجھے تجربہ حاصل ہو اس لئے ہر ایک صحبت میں مجھے رہنا پڑا۔ اور بقول صاحب مثنوی رومی و ہ تمام ایام سخت کراہت اور درد کے ساتھ میں نے بسر کئے ۔ من بہر جمعیتے نالاں شدم جفت خوش حالان و بد حالاں شدم