کتاب البریہ — Page 185
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۸۵ شخص کے واسطے حوران بہشت کا خیال بڑھ کر لقمہ ہے۔ جان جائے تو چلی جائے حوران بہشت تو ملیں گی۔ نیز ہم کو یہ بھی علم ہوا کہ وہ نوجوان ایک نکمے مسلمان خاندان جہلمی سے تھا جن کو مرنے کا ذرا خوف نہیں ہے۔ اور اگر وہ بطور مرید مرزا صاحب کے مرتا تو مرزا صاحب کی عزت تھی ۔ اور اگر وہ بطور مسلمان کے مرتا تو شہید کہلاتا اور اگر یونہی مر جاتا تو اس کے چوں کو جائیداد سے فائدہ تھا۔ ان باتوں کو مدنظر رکھ کر ہم بیاس گئے اور روبروئے گواہان ہم نے اس نوجوان سے گفتگو کی اور میرے وعدہ پر کہ ہم تمہارا بر انہیں چاہتے اس لڑکے نے پانچ کس گواہان کے رو بروئے اقرار کیا اور خود لکھ کر ( حرف H) دیا جو ہمارے رو بروئے اس نے لکھا تھا اور پھر روبروئے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر امرتسر کے تصدیق بھی کرا دیا تھا۔ علاوہ اس اقرار نامہ کے اس نوجوان نے از خود مجھے کہا کہ میں با یماء مرزا صاحب جان بوجھ کر ان کو گالیاں دیگر آیا تھا۔ اور یہ بھی اس نے ہم کو کہا کہ ریل کا کرایہ بطور مزدوری (۱۵۴) ٹوکری اٹھانے کے مرزا صاحب نے دیا ہے اور پھر یہ بھی اس نے ہم کو کہا کہ جو خط مولوی نور الدین کو بیاس سے بھیجا تھا اس سے غرض یہ تھی کہ میری سکونت کا اس کو پتہ ملے ۔ اس لئے ان کے حکم سے جو عین میری منشاء کے موافق تھا میں نے استعفا دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی سبکدوش کر دیا اور پھر والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ اس تجربہ سے مجھے معلوم ہوا کہ اکثر نوکری پیشہ نہایت گندی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ ان میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جو پورے طور پر صوم اور صلوٰۃ کے پابند ہوں اور جو ان ناجائز حظوظ سے اپنے تئیں بچا سکیں جو ابتلا کے طور پر ان کو پیش آتے رہتے ہیں۔ میں ہمیشہ ان کے منہ دیکھ کر حیران رہا اور اکثر کو ایسا پایا کہ ان کی تمام دلی خواہشیں مال و متاع تک خواہ حلال کی وجہ سے ہو یا حرام کے ذریعہ سے محدود ۱۵۴ تھیں ۔ اور بہتوں کی دن رات کی کوششیں صرف اسی مختصر زندگی کی دنیوی ترقی کے لئے