کتاب البریہ — Page 178
روحانی خزائن جلد ۱۳۔ IZA شیخ مہر علی کے دھمکی دی گئی کہ اگر وہ بیعت نہ کرے تو عذاب اس پر نازل ہوگا ( تسلیم نہیں کیا گیا ) پیشگوئیاں مذکورہ بالا ( دستی تحریر شدہ ) کاغذ نمبر ل میں درج ہیں جو عدالت میں داخل کیا گیا ہے۔ لیکھرام کے قتل کے بعد ہم کو مخفی طور پر آگاہ کیا گیا کہ ہم کو خبر دار رہنا چاہیے مبادا ۱۳۷) مرزا صاحب نقصان پہنچائے۔ ایک اشتہار میں مرزا صاحب نے یہ لکھا تھا کہ کچھ حصہ کفر کا مٹ گیا ہے اور کچھ حصہ جلد مٹنے والا ہے۔ یہ فقرات جو ہیں ان کی بابت میرا خیال ہے کہ جو حصہ کفر کا مٹ گیا ہے وہ لیکھرام کی بابت ہے اور جو باقی ہے وہ میری نسبت ہے اور اس لئے میں نے سرکار میں اطلاع دی تھی۔ اشتہار وغیرہ جو میرے پاس آتے ہیں وہ ہمیشہ قادیان سے آتے ہیں۔ حالانکہ میں نہ چندہ دیتا ہوں اور نہ کوئی تعلق ہے۔ بعد مناظرہ کے ہماری خط و کتابت چند عرصہ تک رہی اور پھر بعد ازیں ہر طرح سے ہم نے مخط و کتابت وغیرہ کا مرزا صاحب سے قطع تعلق کر دیا۔ سہ ماہ گذشتہ سے ہم نے کوئی اشتہار وغیرہ مرزا صاحب کی طرف سے وصول نہیں پایا۔ جس سے میرا خیال ہے کہ وہ یہ مجھے کہ میری طرف سے وہ غافل ہیں۔ ۶ ارجولائی ۹۷ء کو ایک نص جوان عمر میرے پاس آیا اور اس نے عیسائی ہونے کی درخواست کی۔ اس نے اپنا نام کے دنوں میں ان کی تنگی کا زمانہ فراخی کی طرف بدل گیا تھا اور یہ خدا تعالیٰ کی رحمت ہے کہ میں نے ان کے مصائب کے زمانہ سے کچھ بھی حصہ نہیں لیا اور نہ اپنے دوسرے بزرگوں کی ریاست اور ملک داری سے کچھ حصہ پایا بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح جن کے ہاتھ میں صرف نام کی شہزادگی بوجہ داؤد کی نسل سے ہونے کی تھی اور ملک داری کے اسباب سب کچھ کھو بیٹھے تھے ایسا ہی میرے لئے بھی بگفتن یہ بات حاصل ہے کہ ایسے رئیسوں اور ملک داروں کی اولاد میں سے ہوں ۔ شاید یہ اس لئے ہوا کہ یہ مشابہت بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ پوری ہو۔ اگر چہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کی طرح یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ میرے لئے سر رکھنے کی جگہ نہیں مگر تا ہم میں جانتا ہوں کہ وہ تمام صف ہمارے اجداد کی ریاست