کتاب البریہ — Page 177
روحانی خزائن جلد ۱۳ 122 نمبر ۱ عبد اللہ آتھم صاحب کو ایک ہزار انعام کا وعدہ دیا گیا تھا شرطیہ طور پر تسلیم کیا گیا)۔ (۱۴۲) نمبر ۱۲ عبد اللہ آتھم صاحب کو دو ہزار روپیہ کے انعام کا وعدہ دیا گیا۔ نمبر ۱۳ ایضاً تین ہزار ایضاً۔ نمبر ۱۴ ایضاً چار ہزار ایضاً۔ نمبر ۱۵ انجام آتھم شائع کیا گیا ( تسلیم ہوا) نمبر ۱۶ انجام آتھم میں مرزا صاحب نے پیشگوئی کی تھی کہ ۹۴ مولوی اور ۶۸ چھا پہ والے اگر ہمارے پر ایمان نہیں لاویں گے تو مر جائیں گے (مرزا صاحب نے اس کو تسلیم نہیں کیا ۔ نمبر ۱۷ اس پیشگوئی میں لیکھرام کے مرنے کی بابت وہ لوگوں کو بتلاتے ہیں کہ مباہلہ کریں (تسلیم کیا گیا)۔ نمبر ۱۸ گنگا بشن کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا (تسلیم کیا ) نمبر ۱۹ مولوی محمد حسین بٹالوی کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا ( تسلیم کیا گیا) نمبر ۲۰ رائے جندرسنگھ کو مباہلہ کے واسطے بلایا گیا تسلیم کیا گیا) نمبر ۲۱ پیشگوئی بابت مرنے لیکھرام کی۔ (تسلیم کیا گیا) نمبر ۲۲ نسبت سواروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دیئے تھے اور آئندہ گورنمنٹ کو اس قسم کی مدد کا عند الضرورت وعدہ بھی دیا۔ اور سرکار انگریزی کے حکام وقت سے بجلد وے خدمات عمدہ عمدہ چٹھیات خوشنودی مزاج ان کو ملی تھیں ۔ چنانچہ سرلیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ ریکسان پنجاب میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔ غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہر دلعزیز تھے۔ اور بسا اوقات ان کی دلجوئی کے لئے حکام وقت ڈپٹی کمشنر ، کمشنر اُن کے مکان پر آکر ان کی ملاقات کرتے تھے۔ ی مختصر میرے خاندان کا حال ہے میں ضروری نہیں دیکھتا کہ اس کو بہت طول دوں ۔ اب میرے ذاتی سوانح یہ ہیں کہ میری پیدائش ۱۸۳۹ ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی ہے اور میں ۱۸۵۷ء میں سولہ برس کا یا سترھویں برس میں تھا۔ اور ابھی ریش و بردت کا آغاز نہیں تھا۔ میری پیدائش سے پہلے میرے والد صاحب نے بڑے بڑے مصائب دیکھے۔ ایک دفعہ ہندوستان کا پیادہ پا سیر بھی کیا۔ لیکن میری پیدائش جیا نوٹ:۔ میں تو ام پیدا ہوا تھا ایک لڑکی جو میرے ساتھ تھی وہ چند دنوں کے بعد فوت ہوگئی تھی ۔ میں خیال (۱۴۲) کرتا ہوں کہ اس طرح پر خدا تعالی نے انٹیت کا مادہ مجھ سے بکی الگ کر دیا۔ منہ