کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 630

کتاب البریہ — Page 171

روحانی خزائن جلد ۱۳ مرزا غلام احمد دولت مند آدمی ہے وہ ہمیشہ اپنے دعاوی کے بطلان کرنے کے واسطے بڑی بڑی نقل مطابق اصل رقمیں شرطیہ لکھتے ہیں۔ چنانچہ اشتہار معیار الاخیار والاشرار میں پانچ ہزار انعام کا وعدہ انہوں نے ﴿۱۲﴾ لکھا ہے۔ مجھ کو علم ہوا ہے کہ وہ بہت رو پیدا اپنے پیروان سے حاصل کرتا ہے۔ ڈاک خانہ کی معرفت اس کو بہت روپیہ حاصل ہوتا ہے۔ عبداللہ آتھم کی زندگی پر حملے جو ہوئے وہ عام طور پر مرزا صاحب کی طرف منسوب کئے گئے۔ اخباروں میں اسی طرح درج ہوتا رہا۔ مگر مرزا صاحب نے کبھی ان کی تردید نہیں کی بلکہ ایک طرح پر خوشی منائی اور یہ اظہار کیا کہ عبداللہ آتھم اسی مرض سے انتقال فرما گئے۔ موت تو مقدر تھی مگر یہ ان کا طریق تقومی ہمیشہ کے لئے یادگار رہا کہ ی موت کو شراب پر اختیار کر لیا۔ موت سے بچنے کے لئے انسان کیا کچھ نہیں کرتا لیکن انہوں نے معصیت کرنے سے موت کو بہتر سمجھا۔ افسوس ان بعض نوابوں اور امیروں اور رئیسوں کی حالت تی کس قدر صریح اور داغ ہے کہ میری طرف سے عملوں کی کوئی تردید نہیں ہوئی۔ میں نے توصد با شتہارات اور تین نیمکتا ہیں (۱۳۲) اسی غرض سے شائع کیں کہ اگر میری طرف سے حملے ہوئے ہیں تو آ تم میرے پر عدالت میں نائش کرے یا قسم کھائے۔ بلکہ اسی حجت کے پوری کرنے کے لئے قسم کھانے پر چار ہزار و پی دینا بھی کیا۔ سو اس سے زیادہ اس بے ہودہ اور بے اصل الزام کی اور کیا تردید کی جاتی۔ انھم تو ایسا چپ ہوا کہ کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ میرے دوسرے الہام کے موافق فوت ہو گیا۔ عجیب بات ہے کہ میعاد پیشگوئی کے اندر تین حملے ہوئے ہوں اور آتھم ایسے وقت چپ رہے کہ جب شور و غوغا کرنا اس کا فرض تھا۔ اور پھر میعاد کے بعد بھی میرے اشتہارات کے شائع ہونے تک چپ رہے۔ اور جب اس کو پیش گوئی سے ترساں و لرزاں ہونے پر بار بار ملزم کیا جائے تو اس وقت تین حملے پیش کئے جائیں اور پھر قسم کے لئے بلانے کے وقت بھاگ جائے کہ ہمارے مذہب میں منع ہے اور نتائش کرے۔ افسوس پادری صاحبوں کی بید یانت ہے۔ ڈاکٹر کلارک اور وارث دین وغیرہ نے عدالت میں قسم کھا کر اس عقیدہ کو بھی حل کر دیا کہ تھم کا تم سے انکار کرنا صحت نیت پرھنی تھا یا فسادنیت پر۔ یہ بھی یادر ہے کہ تم کو ڈرتے رہنے کا تو اقر ار تھا اور نتیح طلب یہ امر تھا کہ وہ خوف پیش گوئی سے تھایا حملوں سے۔ سو تھم نے قسم نہ کھانے اور ناش نہ کرنے اور چپ رہنے سے ثابت کردیا کہ وہ خوف محض پیش گوئی سے تھاور نہ دشمن ایک حملہ پر بھی چپ نہیں رہ سکتا۔ چہ جائیکہ تین حملے ہوں۔ پیش گوئی سے ڈرتے رہنے کا تو صریح ثبوت ہے کہ آتھم نے نمائش کی نہ قسم کھائی اور نہ میعاد کے اندر اور اشتہار سے پہلے کچھ شائع کیا لیکن تین حملوں کا کیا ثبوت ہے جن کا بار ثبوت اس کی گردن پر تھا۔ منہ