کتاب البریہ — Page 166
۱۶۶ روحانی خزائن جلد ۱۳ کرتا ہوں۔ اور اس کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ آ کر بیان کرے کہ کیوں زیر دفعہ ۰۷ ا ضابطہ فوجداری حفظ امن کے لئے ایک سال کے واسطے ہیں ہزار روپیہ کا مچلکہ اور ہیں ہزار روپے کی دو الگ الگ ضمانتیں نہ لی جائیں۔ دستخط اے ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر یکم اگست ۹۷ء میں نے وارنٹ کا جاری کرنا روک دیا ہے۔ کیونکہ یہ مقدمہ میرے اختیار میں نہیں ہے ۔ دیکھو انڈین لا ءر پورٹ نمبرا کلکتہ ۷۱۳ ۱۲۹ کلکتہ ۱۳۳ اور ۶ الہ آباد ۲۶۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کے پاس کارروائی کے لئے بھیجا جاوے۔ دستخط اے ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ۷ اگست ۹۷ تھے ۔ اور ایک سو کے قریب علماء اور صلحاء اور حافظ قرآن شریف کے ان کے پاس رہتے تھے جن کے کافی وظیفے مقرر تھے اور ان کے دربار میں اکثر قال اللہ اور قال الرسول کا ذکر بہت ہوتا تھا۔ اور تمام ملازمین اور متعلقین میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو تارک نماز ہو۔ یہاں تک کہ چکی پینے والی عورتیں بھی پنج وقتہ نماز اور تہجد پڑھتی تھیں۔ اور گرد و نواح کے معزز مسلمان جو اکثر افغان تھے قادیاں کو جو اس وقت اسلام پور کہلا تا تھا مکہ کہتے تھے۔ کیونکہ اس پر آشوب زمانہ میں ہر ایک مسلمان کے لئے یہ قصبہ مبارکہ پناہ کی جگہ تھی ۔ اور دوسری اکثر جگہ میں کفر اور فسق اور ظلم نظر آتا تھا اور قادیاں میں اسلام اور تقویٰ اور طہارت اور عدالت کی خوشبو آتی تھی۔ میں نے خود اس زمانہ سے قریب زمانہ پانے والوں کو دیکھا ہے کہ وہ اس قدر قادیاں کی عمدہ حالت بیان کرتے تھے کہ گویا وہ اس زمانہ میں ایک باغ تھا جس میں حامیان دین اور صلحاء اور علماء اور نہایت شریف اور جوانمرد آدمیوں کے صد ہا پودے پائے جاتے تھے ۔ اور اس نواح میں یہ واقعات نہایت مشہور ہیں کہ میرزا گل محمد صاحب مرحوم ۱۳۸