کتاب البریہ — Page 161
روحانی خزائن جلد ۱۱۳ ۱۶۱ بعد الت اے ای مارٹینو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع امرتسر مستغیث قیصرہ ہند زیر دفعہ ۱۰۷ مستغاث الیہ مرزا غلام احمد صاحب قادیاں تحصیل بٹالہ اظہار ڈاکٹر مارٹن کلارک (ترجمه از انگریزی) میں میڈیکل مشنری ہوں اور امرتسر میں رہتا ہوں عبدالحمید نے میرے پاس ۱۵ جولائی کو آکر بیان کیا کہ میں بٹالہ کا برہمن ہوں۔ مجھے غلام احمد قادیانی نے مسلمان کیا تھا اور میں اس کے پاس سات سال طالب علم ہو کر رہا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ وہ بہت بُرا آدمی ہے اور اب اس کو چھوڑ کر میں عیسائی ہونا چاہتا ہوں۔ میں نے اس کو داخل کر لیا۔ اس کی کہانی مجھے قرین قیاس نہ معلوم ہوئی۔ میں نے اس کے متعلق تحقیق کرنی شروع کی اور مجھے معلوم ہو گیا کہ یہ کہانی واقعات پڑھنے کے وقت نہایت شوق سے اس شخص کے سوانح کو پڑھنا شروع کرتا ہے اور دل میں جوش رکھتا ہے کہ اس کے کامل حالات پر اطلاع پا کر اس سے کچھ فائدہ اٹھائے ۔ تب اگر ایسا اتفاق ہو کہ سوانخ نویس نے نہایت اجمال پر کفایت کی ہو اور لائف کے نقشہ کو صفائی سے نہ دکھلایا ہو تو یہ شخص نہایت ملول خاطر اور منقبض ہو جاتا ہے۔ اور بسا اوقات اپنے دل میں ایسے سوانح نویس (۱۳۳) پر اعتراض بھی کرتا ہے اور درحقیقت وہ اس اعتراض کا حق بھی رکھتا ہے کیونکہ اس وقت نہایت اشتیاق کی وجہ سے اس کی مثال ایسی ہوتی ہے کہ جیسے ایک بھو کے کے آگے خوان نعمت رکھا جائے اور معاً ایک لقمہ کے اٹھانے کے ساتھ ہی اس خوان کو اٹھا لیا جائے ۔ اس لئے ان بزرگوں کا یہ فرض ہے جو سوانح نویسی کے لئے قلم اٹھا دیں کہ اپنی کتاب کو مفید عام اور ہر دلعزیز اور مقبول انام بنانے کے لئے نامور انسانوں کے سوانح کو صبر اور فراخ حوصلگی کے ساتھ اس قدر بسط سے لکھیں اور ان کی لائف کو ایسے طور سے مکمل کر کے دکھلا دیں کہ اس کا پڑھنا ان کی ملاقات