کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 630

کتاب البریہ — Page 155

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۵۵ مگر افسوس کہ پادری صاحبوں نے تعصب کے جوش میں آنجناب کی عزت اور مرتبہ کا کچھ بھی لحاظ نہیں کیا اور نہایت درجہ کے قابل شرم افتراؤں سے کام لیا ہے۔ مجھے اس جگہ بعض نادان مسلمانوں کی نکتہ چینی کا بھی اندیشہ ہے۔ شاید وہ یہ اعتراض کریں کہ کیا ضرور تھا کہ یہ نا پاک کلمات اس کتاب میں لکھے جاتے جن میں اس قدر شرارت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی ہے ؟ سو اس کا جواب میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ اس نوٹس کی وجہ سے جو مثل مقدمہ میں شامل ہے ہمارے پر فرض ہو گیا تھا کہ ہم اپنی گورنمنٹ عالیہ پر اصل حقیقت ظاہر کریں کہ سختی ۱۳۸۶ ہماری طرف سے ہے یا پادریوں کی طرف سے ۔ اور اگر ہم اس دھوکہ دہی کا تدارک نہ کرتے تو حکام کو کیونکر معلوم ہوتا کہ پادری صاحبوں کا یہ سراسر جھوٹ ہے کہ ہماری طرف سے زیادتی اور سختی ہے ۔ اور پادری صاحبوں نے نہ محض میرے لئے بلکہ تمام ہم یقیناً جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا سب سے بڑا نبی اور سب سے زیادہ پیارا جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ کیونکہ دوسرے نبیوں کی انہیں ایک تاریکی میں پڑی ہوئی ہیں اور صرف گذشتہ قصے اور کہانیاں ان کے پاس ہیں ۔ مگر یہ اُمت ہمیشہ خدا تعالی سے تازہ بتازہ نشان پاتی ہے۔ لہذا اس اُمت میں اکثر عارف ایسے پائے جاتے ہیں کہ جو خدا تعالی پر اس درجہ کا یقین رکھتے ہیں کہ گویا اس کو دیکھتے ہیں ۔ اور دوسری قوموں کو خدا تعالی کی نسبت یہ یقین نصیب نہیں۔ لہذا ہماری روح سے یہ گواہی نکلتی ہے کہ سچا اور صحیح مذہب صرف اسلام ہے۔ ہم نے حضرت عیسی علیہ السلام کا کچھ نہیں دیکھا۔ اگر قرآن شریف گواہی نہ دیتا تو ہمارے لئے اور ہر ایک محقق کے لئے ممکن نہ تھا کہ ان کو سچا نبی سمجھتا۔ کیونکہ جب کسی ۱۳۸۶ ہے مذہب میں صرف قصے اور کہانیاں رہ جاتی ہیں تو اس مذہب کے بانی یا مقتدا کی سچائی صرف ان قصوں پر نظر کر کے تحقیقی طور پر ثابت نہیں ہو سکتی۔ وجہ یہ کہ صد ہا برس کے گذشتہ قصے کذب کا