کتاب البریہ — Page 154
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۵۴ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی بزرگی اور عزت مانیں ایسا ہی ہمارا بھی فرض ہے ۔ ہم لوگ صرف خدائی کا منصب خدا تعالیٰ کے لئے خاص رکھ کر باقی امور میں حضرت عیسی علیہ السلام کو ایک صادق اور راستباز اور ہر ایک ایسی عزت کا مستحق سمجھتے ہیں جو بچے نبی کو دینی چاہیئے ۔ مگر پادری صاحبان ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کب ایسا نیک ظن رکھتے ہیں ۔ نہایت سے نہایت نرم کلمہ ان کا یہ ہوگا کہ وہ شخص نعوذ باللہ مفتری اور کذاب تھا سو کوئی مسلمان اس کلمہ کو بھی بغیر درد اور دکھ اٹھانے کے سن نہیں سکتا۔ خدا ترسی کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ مفتری اور کذاب کہنے سے بھی پر ہیز کرتے ۔ کیونکہ جن دلائل کے رو سے وہ ایک انسان کو خدا بنا رہے ہیں وہ نشان اور دلائل صد ہا درجہ زیادہ اس کامل انسان میں پائے جاتے ہیں۔ اس مقدس نبی کے وعظ اور تعلیم نے ہزاروں مُردوں میں توحید کی روح پھونک دی اور دنیا سے کوچ نہ کیا جب تک ہزاروں انسانوں کو موحد نہ بنالیا۔ وہ خدا ماننے کے لئے ۱۲۷ پیش کیا جس کو قانون قدرت پیش کر رہا ہے ۔ زُہد اور تقویٰ اور عبادت اور محبت الہی کی نصیحت کی اور ہزار ہا آسمانی نشان دکھلائے جو اب تک ظہور میں آ رہے ہیں ۔ حاشیه ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نشان اور معجزات دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو آنجناب کے ہاتھ سے یا آپ کے قول یا آپ کے فعل یا آپ کی دعا سے ظہور میں آئے اور ایسے معجزات شمار کے رو سے قریب تین ہزار کے ہیں۔ اور دوسرے وہ معجزات ہیں جو آنجناب کی اُمت کے ذریعہ سے ہمیشہ ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اور ایسے نشانوں کی لاکھوں تک نوبت پہنچ گئی ہے اور ایسی کوئی صدی بھی نہیں گذری جس میں ایسے نشان ظہور میں نہ آئے ہوں ۔ چنانچہ اس زمانہ میں اس عاجز کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ یہ نشان دکھلا رہا ہے۔ ان تمام نشانوں سے جن کا سلسلہ کسی زمانہ میں منقطع نہیں ہوتا۔