کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 630

کتاب البریہ — Page 128

روحانی خزائن جلد ۱۳ نصائح ومواعظ سے مد دلیا کرتا تھا۔ ۱۲۸ ۲۸۳ جب وہ بر سر حکومت و دسترس تھا اس نے دنیوی خواہشات و اغراض کی طرف میلان ظاہر کیا۔ ۲۸۴ اس کے دور حیات کے اخیر وقت تک اس کو ایک خاص قسم کے خبط و خفقان سے کم و بیش متحیر و حیران کرتی رہی۔ اور اسی دھو کے اور فریب دینے والے یقین میں مرگیا کہ میں مطبوعہ ایک پیغمبر ہوں ۔ اخبار نورافشاں ۔ امریکن مشن پر لیس لودیانہ ایک محمدی ملا جس نے بقول اخبار مذکور اپنے مرید کی عورت کو خو بصورت دیکھ کر حکمت ۱۳ مارچ ۹۶ عملی سے طلاق دلوائی اور اپنے نکاح میں لایا اس کا ذکر کر کے لکھا ہے ) اس محمدی ملا کا صفحه ۵ فعل ہم کو تعجب میں نہیں ڈالتا کیونکہ ملا نے عین اپنے پیغمبر کی پیروی کی ہے۔ ۱۲ جون ۹۶، صفحہ ۸ محمد کے پاس جو وحی آتی تھی وہ بھی دیوتا لاتے تھے۔ ۱۹ار جون ۹۶ صفحہ 1 ظلم و ستم سے مذہب پھیلا نیوالے (مسلمان) ضرور گدھے اور انکائی مل گدھا پن ہے۔ صفحه محمد صاحب خود بھی حسن پرست اور عاشق مزاج تھے (ایک قصہ نقل کر کے کہ آنحضرت نے اپنی بیٹی فاطمہ کو بوسہ دیا اخبار نویس نے نتیجہ نکالا ہے ) محمد نے اگر چہ چالاکی سے جواب کو بنایا اگر عائشہ محد کو نا جائز حرکات ( بقول اخبار نویس اپنی بیٹی کو نظر بد سے چومنا) میں مصروف نہ دیکھتی ۔۔ ان حرکات (بیٹی کو بوسہ دینا ) میں اعتدال سے بڑھ کر تعشق کی کثرت پائی جاتی ہے۔ جب فاطمہ حور قرار دی گئی تو وہ اب کس کی حور سمجھی جائے۔ اور حور کا انسان کی صورت میں اس جہاں میں کیا کام ہو سکتا ہے۔ ۲۵ ستمبر ۹۲ ، اب کوئی نہ کہے کہ محمد حفصہ کے گھر بار یہ لونڈی سے ایسا ویسا کرتا تھا۔ اگر آپ کے صفحه ( مسلمان کے قول وایمان کے مطابق اگر عورات بیچ بیچ جوتیاں ہیں تو مہربانی سے فرمائیے