کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 630

کتاب البریہ — Page 121

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۲۱ کتاب البرية مصنفہ واشنگٹن ارونگ صاحب میں لکھا ہے کہ محمد کے اصحاب فراق اور لٹیرے تھے۔ اور وہ خود طامع۔ جھوٹا۔ دھوکہ باز تھا۔ اور اندرونہ بائبل مصنفہ آتھم عیسائی میں لکھا ہے کہ محمد رجبال تھا اور دھوکہ باز ۔ پھر کہتا ہے کہ محمد یوں کا خاتمہ بڑا خوفناک ہے یعنی جلد تباہ ہو جائیں گے۔ (۹۵) اور پر چرنورافشاں لدھیانہ میں لکھا ہے کہ محمد کو شیطانی وحی ہوتی تھی۔ اور وہ نا جائز حرکات کرتا تھا۔ اور نفسانی آدمی ۔ گمراہ - مکار ۔ فریبی ۔ زانی۔ چور ۔ خونریز ۔ لٹیرا ۔ رہنرن ۔ رفیق شیطان ۔ اور اپنی بیٹی فاطمہ کو نظر شہوت سے دیکھنے والا تھا۔ اب یہ تمام الفاظ غور کرنے کے لائق ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں پادری صاحبوں کے منہ سے نکلے ہیں۔ اور سوچنے کے لائق ہے کہ ان کے کیا کیا نتائج ہو سکتے ہیں کیا اس قسم کے الفاظ کبھی کسی مسلمان کے منہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت نکل سکتے ہیں۔ کیا دنیا میں ان سے سخت تر الفاظ ممکن ہیں جو پادری صاحبوں نے اس پاک نبی کے حق میں استعمال کئے ہیں جس کی راہ میں کروڑ ہا خدا کے بندے فدا شدہ ہیں اور وہ اس نبی سے وہ سچی محبت رکھتے ہیں جس کی نظیر دوسری قوموں میں تلاش کرنا لا حاصل ہے پھر با وجود ان گستاخیوں ان بد زبانیوں اور ان ناپاک کلمات کے پادری صاحبان ہم پر الزام سخت گوئی کا رکھتے ہیں یہ کس قدر ظلم ہے۔ ہم یقیناً جانتے ہیں کہ ہرگز ممکن نہیں کہ ہماری گورنمنٹ عالیہ ان کے اس طریق کو پسند کرتی ہو۔ یا خبر پا کر پھر پسند کرے۔ اور نہ ہم باور کر سکتے ہیں کہ آئندہ پادریوں کے کسی ایسے بے جا جوش کے وقت کہ جو کلارک کے مقدمہ میں ظہور میں آیا ہماری گورنمنٹ پادریوں کو ہندوستان کے چھ کروڑ مسلمان پر ترجیح دے کر کوئی رعایت ان کی کرے گی۔ اس وقت جو ہمیں پادریوں اور آریوں کی بدزبانی پر ایک لمبی فہرست دینی پڑی وہ صرف اس غرض سے ہے کہ تا آئندہ وہ فہرست کام آئے اور کسی وقت گورنمنٹ عالیہ اس فہرست پر نظر ڈال کر اسلام کی ستم رسیدہ رعایا کو رحم کی نظر سے دیکھے۔ اور ہم تمام مسلمانوں پر ظاہر کرتے ہیں کہ گورنمنٹ کو ان باتوں کی اب تک خبر نہیں ہے کہ