کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 630

کتاب البریہ — Page 116

روحانی خزائن جلد ۱۳ جس قدر آپ نے نکتہ چینی فرمائی وہ ضروری اور واجبی تھی۔ (۳) بابت حضرت مسیح کے بھی ایک بے وجہ الزام پایا گیا ۔ گو یسوع کے حق میں آپ نے کچھ لکھا ہے جو ایک الزامی طور پر ہے جیسا کہ ایک مسلمان شاعر ایک شیعہ کے مقابل میں حضرت مولانا علی کے بارے میں لکھتا ہے : آں جوانے بُروت مالیده جنگ و وغا سگالیده بہر برخلافت دلش بسے مائل لیک بوبکر شد میاں حائل تو بھی حضرت اگر ایسا نہ کرتے میرے خیال میں تو بہت اچھا ہوتا ۔ جَادِلْهُمْ بِالَّتِی هِيَ أَحْسَنُ ۔ مگر ان باتوں کے علاوہ جس سے میرا دل تڑپ اٹھا اور اس سے یہ صدا آنے لگی کہ اٹھ اور معافی طلب کرنے میں جلدی کر۔ ایسا نہ ہو کہ تو خدا کے دوستوں سے لڑنے والا ہو۔ خداوند کریم تمام رحمت ہے كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَة - دنیا کے لوگوں پر جب عذاب نازل کرتا ہے تو اپنے بندوں کی ناراضی کی وجہ سے مَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا - آپ کا خدا کے ساتھ معاملہ ہے تو کون ہے جو الہی سلسلہ میں دخل دیوے۔ خداوند کی اس آخری عظیم الشان کتاب کی ہدایت یاد آئی جو مومن آل فرعون کے قصہ میں بیان فرمائی گئی کہ جولوگ خدائی سلسلہ کا ادعا کریں ان کی تکذیب کے واسطے دلیری اور پیش دستی نہ کرنی چاہیے نہ یہ کہ ان کا انکار کرنا چاہیے إِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ مگر یہ صرف میرا دلی خیال ہی نہیں رہا بلکہ اس کا ظاہری اثر محسوس ہونے لگا۔ کچھ ایسی بنائیں خارج میں پڑنے لگیں جس میں (اعوذ باللہ ) مصداق ہو جانے لگا۔ ( یعنی آثار خوف ظاہر ہوئے)۔ چودہ سو برس ہونے کو آتے ہیں کہ خدا کے ایک برگزیدہ کے منہ سے یہ لفظ ہماری قوم کے حق میں نکلے تو کیا؟ قدرت کو هباءً منثورا کرنے کا خیال ہے تُبْتُ اِلَيْكَ يَا رَبِّ ) کہ پھر ل النحل : ۱۲۶ بنی اسرآئیل: ۱۶ ۳ المومن: ۲۹