کتاب البریہ — Page 115
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۱۵ كتاب البرية ترکوں سے محبت کرتے ہیں کہ ان کی خیر میں ان کے دین ودنیا کی خیر ہے۔ ورنہ ترکوں کا کوئی خاص احسان مسلمانان ہند پر نہیں بلکہ ہم کو سخت گلہ ہے کہ ہمارے پچھلی صدی کے عالمگیر کی تباہی میں جبکہ مرہٹوں وسکھوں کے ہاتھ سے مسلمانان ہند بر باد ہورہے تھے ہماری کوئی خبر انہوں نے نہیں لی۔ اس شکریہ کی مستحق صرف سرکار انگریزی ہے جس کی گورنمنٹ نے مسلمانوں کو اس سے نجات دلائی تو ہماری ہمدردی کی وہی خاص وجہ ہے جو اوپر ذکر کی گئی۔ اور اس کو خیال کر کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسی سخت ترین مصیبت کے وقت تو مسلمانوں کے ایک بچے راہ نما کا یہ کام ہوتا کہ وہ عاجزی سے گڑ گڑا کر خدا کے حضور میں اس تباہی سے بیڑے کو بچاتا۔ کیا حضرت نوح کے فرزند سے زیادہ ترک گنہ گار تھے تو بجائے اس کے کہ ان کے حق میں خدا کے حضور شفاعت کی جاتی ہے نہ الثانی سے ایسی بات بنائی جاتی۔ (۳) و نیز یہ کہ حضرت والا نے حضرت مسیح کے بارے میں اپنی تصانیف میں سخت حقارت آمیز الفاظ لکھے ہیں جو ایک مقبول بارگاہ الہی کے حق میں شایان شان نہ تھے جس کو خداوند اپنی روح و کلمہ فرمائے جن کے حق میں یہ خطاب هو وَجِيْهَا فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ ا پھر اس کی تو ہین اور اہانت کیونکر ہو سکتی۔ یہ باتیں میرے دل میں بھری تھیں اور ان کے تجسس کے واسطے میں پھر کوشش کر رہا تھا کہ یہ کہاں تک صحیح ہیں کہ ناگاہ حضور کا اشتہار تر کی سفیر کے بارے میں جو نکلا پیش ہوا تو بیساختہ میرے منہ سے ( سوا کسی اور کلام کے ) مثنوی کا بیت نکل گیا۔ جس پر آپ کو رنج ہوا۔ ( اور رنج ہونا چاہیے تھا )۔ (1) رسالت کے دعوے کے بارے میں مجھ کو خود ازالہ اوہام کے دیکھنے سے ونیز آپ کی وہ روحانی اور مردہ دلوں کو زندہ کرنے والی تقریر سے جو جلسہ مذاہب لا ہور میں پیش ہوئی میری تسلی ہو گئی جو محض افتر او بہتان ذات والا پر کسی نے باندھا۔ (۲) بابت ترکوں کے آپ کے اسی اشتہار (میرے عرضی دعوی کے ) میری تسلی ہوگئی۔ ال عمران: ۴۶