کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 114 of 630

کتاب البریہ — Page 114

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۱۴ حتی کہ میرے بہت سے مہربان دوستوں نے جو ان سے آپ کے معاملات پر میں ہمیشہ بحث کرتا رہتا تھا۔ مجھے ۔۔ خطاب سے مخاطب کیا۔ پھر یہ کہ با ایں ہمہ کیوں؟ میرے منہ سے وہ بیت مثنوی کا نکلا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں جب لاہور میں ان کے پاس گیا تو مجھ کو اپنے معتبر دوستوں کے ذریعہ سے (جن سے پہلے میری بحث رہتی تھی) خبر ملی کہ آپ سے ایسی باتیں ظہور میں آئی ہیں جس سے کسی مسلمان ایماندار کو آپ کے مخالف خیال کرنے میں کوئی تامل نہیں رہا۔ (۱) آپ نے دعویٰ رسول ہونے کا کیا ہے اور ختم المرسلین ہونے کا بھی ساتھ ساتھ ادعا کر دیا ہے (جو ایک سچے مسلمان کے دل پر سخت چوٹ لگانے والا فقرہ تھا کہ جو عزت ختم رسالت کی بارگاہ الہی سے محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ ( فداک روحی یا رسول اللہ ) کومل چکی ہے اس کا دوسرا کب حق دار ہو سکتا ہے۔ (۲) آپ نے فرمایا ہے کہ ترک تباہ ہوں گے اور ان کا سلطان بڑی بے عزتی سے قتل کیا جائے گا اور دنیا کے مسلمان مجھ سے التجا کریں گے کہ میں ان کو ایک سلطان مقرر کر دوں ۔ یہ ایک خوفناک بر بادی بخش پیشگوئی اسلامی دنیا کے واسطے تھی۔ کیونکہ آج تمام مقدس مقامات جو خداوند کے عہد قدیم وجدید سے چلے آتے ہیں ان کی خدمت ترکوں واُن کے سلطان کے ہاتھ میں ہے۔ ان مقامات کا ترکوں کی مغلوبی کی حالت میں نکل جانا ایک لازمی اور یقینی امر ہے جس کے خیال کرنے سے ایک ہیبت ناک و خطرناک نظارہ دکھائی دیتا ہے کہ اس موقعہ پر دنیا کے ہر ایک مسلمان پر فرض ہو جائے گا کہ ان معبدوں کو نا پاک ہاتھوں سے بچانے کے واسطے اپنی جان و مال کی قربانی چڑھائے۔ کیسا مصیبت اور امتحان کا وقت مسلمانوں پر آپڑے گا کہ یا تو وہ بال بچہ گھر بار پیارے وطن کو الوداع کہہ کے ان پاک معبدوں کی طرف چل پڑیں یا اس ابدی اور جاوید زندگی ایمان سے دست بردار ہو جائیں۔۔ (۸۹) رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا یہی راز ہے جو مسلمان البقرة: ۲۸۷