کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 113 of 630

کتاب البریہ — Page 113

۸۷ ۱۱۳ روحانی خزائن جلد ۱۳ نقل مطابق اصل اخبار چودھویں صدی والا مجرم “ "بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم سیدی و مولائی السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ایک خطا کار اپنی غلط کاری سے اعتراف کرتا ہوا (اس نیاز نامہ کے ذریعہ سے ) قادیان کے مبارک مقام پر (گویا) حاضر ہو کر آپ کے رحم کا خواستگار ہوتا ہے۔ کیم جولائی ۹۷ سے یکم جولائی ۹۸ تک جو اس گنہ گار کو مہلت دی گئی اب آسمانی بادشاہت میں آپ کے مقابلہ میں اپنے آپ کو مجرم قرار دیتا ہے۔ (اس موقعہ پر مجھے القا ہوا کہ جس طرح آپ کی دعا مقبول ہوئی اسی طرح میری التجا و عاجزی قبول ہوکر حضرت اقدس کے حضور سے معافی و رہائی دی گئی ) مجھے اب زیادہ معذرت کرنے کی ضرورت نہیں۔ تا ہم اس قدر ضرور عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں ابتدا سے آپ کی اس دعوت پر بہت غور سے جویائے حال رہتا رہا اور میری تحقیق ایمانداری و صاف دلی پر مبنی تھی۔ حتی کہ (۹۰) فیصدی یقین کا مدارج پہنچ گیا۔ (1) آپ کے شہر کے آریہ مخالفوں نے گواہی دی کہ آپ بچپن سے صادق و پاکباز تھے۔ (۲) آپ جوانی سے اپنی تمام اوقات خدائے واحد حتی و قیوم کی عبادت میں لگا تار صرف فرماتے رہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (۳) آپ کا حسن بیان تمام عالمان ربانی سے صاف صاف علیحدہ نظر آتا ہے۔ آپ کی تمام تصنیفات میں ایک زندہ روح ہے ( فِيهَا هُدًى ونور) (۴) آپ کا مشن کسی فساد اور گورنمنٹ موجودہ کی (جو تمام حالات سے اطاعت و شکر گذاری کے قابل ہے ) بغاوت کی راہ نمائی نہیں کرتا ان الله لا يحبّ في الارض الفساد۔ یہ عنوان بزرگ موصوف نے اپنے خط کے سر پر لکھا تھا۔ چونکہ اس عنوان میں نہایت انکسار ہے جو انسان کو بوجہ اس کے کمال تذلیل کے مور درحمت الہی بناتا ہے اس لئے ہم نے اس کو جیسا کہ اصل خط میں تھا لکھ دیا ہے۔ منہ التوبة : ١٢٠ المآئدة: ۴۵