کتاب البریہ — Page 113
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۱۳ نقل مطابق اصل اخبار چودھویں صدی والا مجرم "بسم الله الرحمن الرحيم كتاب البرية نحمده ونصلى على رسوله الكريم سیدی و مولائی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ایک خطا کار اپنی غلط کاری سے اعتراف کرتا ہوا ( اس نیاز نامہ کے ذریعہ سے ) قادیان کے مبارک مقام پر (گویا) حاضر ہو کر آپ کے رحم کا خواستگار ہوتا ہے۔ یکم جولائی ۹۷ سے یکم جولائی ۹۸ تک جو اس گنہگار کو مہلت دی گئی اب آسمانی بادشاہت میں آپ کے مقابلہ میں اپنے آپ کو مجرم قرار دیتا ہے۔ (اس موقعہ پر مجھے القا ہوا کہ جس طرح آپ کی دعا مقبول ہوئی اسی طرح میری التجاء عاجزی قبول ہو کر حضرت اقدس کے حضور سے معافی و رہائی دی گئی مجھے اب زیادہ معذرت کرنے کی ضرورت نہیں۔ تاہم اس قدر ضرور عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں ابتدا سے آپ کی اس دعوت پر بہت غور سے جو یائے حال رہتا رہا اور میری تحقیق ایمانداری و صاف دلی پر بنی تھی۔ حتی کہ (۹۰) فیصدی یقین کا مدارج پہنچ گیا۔ (۱) آپ کے شہر کے آریہ مخالفوں نے گواہی دی کہ آپ بچپن سے صادق و پاکباز تھے۔ (۲) آپ جوانی سے اپنی تمام اوقات خدائے واحد حسی و قیوم کی عبادت میں لگا تار صرف فرماتے رہے إِنَّ اللهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ ( (۳) آپ کا حسن بیان تمام عالمان ربانی سے صاف صاف علیحدہ نظر آتا ہے۔ آپ کی تمام تصنیفات میں ایک زندہ روح ہے ( فِيهَا هُدًى ونُورُ ) (۴) آپ کا مشن کسی فساد اور گورنمنٹ موجودہ کی (جو تمام حالات سے اطاعت و شکر گذاری کے قابل ہے ) بغاوت کی راہ نمائی نہیں کرتا ان الله لا يحب في الارض الفساد یہ عنوان بزرگ موصوف نے اپنے خط کے سر پر لکھا تھا۔ چونکہ اس عنوان میں نہایت انکسار ہے جو انسان کو بوجہ اس کے کمال تذلیل کے مور د رحمت الہی بناتا ہے اس لئے ہم نے اس کو جیسا کہ اصل خط میں تھا لکھ دیا ہے۔ منہ ا التوبة : ١٢٠ المآئدة: ۴۵ ۸۷