کتاب البریہ — Page 112
روحانی خزائن جلد ۱۳ کتاب البرية خدا سے یہ الہام پا کر اور آثار خوف دیکھ کر نہایت انکسار اور تذلیل سے معذرت کا خط لکھا۔ وہ خط کسی قدر اختصار سے پرچہ چودھویں صدی ماہ نومبر ۱۸۹۷ء میں چھپ بھی گیا ہے۔ مگر چونکہ اس اختصار میں بہت سے ایسے ضروری امور رہ گئے ہیں جن سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ کیونکر خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو قبول کرتا اور ان کے دلوں پر رعب ڈالتا اور آثار خوف ظاہر کرتا ہے۔ اس لئے میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس خط کو جو میرے پاس پہنچا تھا بعض ضروری اختصار کے ساتھ شائع کردوں۔ اور بزرگ موصوف کا میا اصل محط اس وجہ سے بھی شائع کرنے کے لائق ہے کہ میں اس اصل خط کو بہت سے لوگوں کو سنا چکا ہوں اور ایک جماعت کثیر اس کے مضمون سے اطلاع پا چکی ہے اور بہت سے لوگوں کو بذریعہ خطوط اسکی اطلاع بھی دی گئی ہے۔ اب جبکہ چودھویں صدی کے پرچہ کو وہ لوگ پڑھیں گے تو ضرور ان کے دل میں یہ خیالات پیدا ہوں گے کہ جو کچھ زبانی ہمیں سنایا گیا اس میں کئی ایسی باتیں ہیں جو شائع کردہ خط میں نہیں ہیں۔ اور ممکن ہے کہ ہمارے بعض کو نہ اندیش مخالفوں کو یہ بہانہ ہاتھ آجائے کہ گویا ہم نے نج کے خط میں اپنی طرف سے کچھ زیادت کی تھی۔ لہذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس اصل خط کو چھاپ دیا جائے۔ مگر یاد رہے کہ چودھویں صدی کے خط میں جس قدر اختصار کیا گیا ہے یہ کسی کا قصور نہیں ہے اختصار کیلئے میں نے ہی اجازت دی تھی مگر اس اجازت کے استعمال میں کسی قدر غلطی ہوگئی ہے لہذا اب اس کی اصلاح ضروری ہے۔ اس تمام قصے کے لکھنے سے غرض یہ ہے کہ ہماری جماعت اور تمام حق کے طالبوں کیلئے یہ بھی ایک خدا کا نشان ہے اور جناب سرسید احمد خاں صاحب بالقابہ کے غور کرنے کے لئے یہ تیسرا نمونہ ہے کہ کیونکر اللہ جل شانہ اپنے بندوں کی دعائیں قبول کر لیتا ہے۔ سید صاحب موصوف کا یہ قول تو نہایت صحیح ہے کہ ہر ایک دعا منظور نہیں ہو سکتی بعض دعا ئیں منظور ہو جاتی ہیں مگر کاش سید صاحب کی پہلی تحریر میں اس آخری تحریر کے مطابق ہوتیں۔ اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ بزرگ موصوف جن کا خط ذیل میں لکھا جاتا ہے کچھ عام لوگوں میں سے نہیں ہیں بلکہ جہاں تک میرا خیال ہے وہ ایک بڑے ذی علم اور علماء وقت میں سے ہیں اور کئی لوگوں سے میں نے سنا ہے کہ انکو الہام بھی ہوتا ہے اور اس خط میں انہوں نے اپنے الہام کاذکر بھی کیا ہے۔ علاوہ ان سب باتوں کے وہ بزرگ پنجاب کے معزز رئیسوں اور جاگیرداروں میں سے ہیں اور ایک مدت سے گورنمنٹ عالیہ انگریزی کی طرف سے ایک معز عہدہ حکومت پر بھی ممتاز ہیں چونکہ پرچہ چودھویں صدی میں بھی اس بزرگ کے منصب اور مرتبت کا اس قدر ذکر ہو چکا ہے لہذا اس قدر یہاں بھی لکھا گیا اور بزرگ موصوف نے جو میرے نام بغرض معذرت ۲۹ اکتوبر ۱۸۹۷ء کو خط لکھا تھا جس کا خلاصہ چودھویں صدی میں چھپا ہے اس خط کو بغرض مصلحت مذکورہ بالا بحذف بعض فقرات ذیل میں لکھتا ہوں اور وہ یہ ہے:۔