کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 630

کتاب البریہ — Page 107

روحانی خزائن جلد ۱۳ 1۔2 پھر اگر اس خیال سے ان کلمات کو ترجیح دی جاتی ہے کہ وہ معجزات سے ثابت ہو چکے ہیں تو میں کہتا ہوں کہ یسوع کے معجزات تو اس زمانہ کے لئے صرف قصے اور کہانیاں ہیں کوئی بھی کہہ نہیں سکتا کہ میں نے ان میں سے کچھ آنکھوں سے بھی دیکھا ہے مگر وہ خوارق اور نشان جو خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھ سے ظاہر ہوئے ہیں وہ تو ہزاروں انسانوں کی چشم دید باتیں ہیں پھر یسوع کے معجزات کو جو محض قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں بتلائی جاتی ہیں۔ ان چشم دید نشانوں سے کیا مناسبت۔ پھر جب کہ خدا بنانے کے لئے گذشتہ قصے جن میں جھوٹ کی آمیزش بھی ہو سکتی ہے قبول کئے گئے ہیں تو موجودہ نشان بدرجہ اولی قبول کرنے کے لائق ہیں۔ اگر دنیا میں کسی عیسائی کے دل میں انصاف ہے تو وہ میری اس تقریر کو نہایت منصفانہ تقریر سمجھے گا۔ میں دوبارہ کہتا ہوں کہ میری تقریر کا ماحصل یہ ہے کہ عیسائیوں نے جو حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا بنا رکھا ہے یہ سراسر ان کی غلط فہمی ہے۔ جن کلمات سے وہ یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ یسوع خدا یا ابن اللہ ہے ان کلمات سے بڑھ کر میرے الہامی کلمات ہیں پادری صاحبان سوچیں اور خوب سوچیں اور بار بار سوچیں کہ یسوع کو خدا بنانے کے لئے ان کے ہاتھ میں بجز چند کلمات کے اور کیا چیز ہے۔ پس میں ان سے یہی چاہتا ہوں کہ وہ میرے الہامی کلمات کو ان کلمات کے ساتھ مقابلہ کر کے دیکھیں اور پھر انصافا گواہی دیں کہ اگر ظاہر الفاظ پر اعتبار کیا جائے تو ایک شخص کے خدا بنانے کے لئے جیسے میرے الہامی کلمات قوی دلالت رکھتے ہیں یسوع کے الہامی کلمات ہر گز ایسے دلالت نہیں رکھتے تو پھر کیا وجہ کہ ان کلمات سے یسوع کو خدا بنایا جاتا ہے۔ اور وہی کلمات بلکہ ان سے بڑھ کر جب دوسرے کے حق میں ہوں تو پھر اس کے اور معنے کئے جاتے ہیں۔ اگر کہو کہ پہلی کتابوں میں مسیح کے آنے کی خبر دی گئی تھی تو میں کہتا ہوں کہ ان ہی کتابوں میں بلکہ مسیح کی زبان سے بھی مسیح کے دوبارہ آنے کی خبر دی گئی تھی اور وہ میں ہوں۔ چنانچہ جیسا کہ انجیل میں لکھا تھا زلزلے بھی آئے ۔ ایک قوم کی دوسری قوم سے لڑائیاں ہوئیں سخت سخت وبائیں پڑیں اور آسمان میں بھی نشان ظاہر ہوئے