کتاب البریہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 630

کتاب البریہ — Page 102

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۱۰۲ کتاب البرية ایسا ہے جیسا کہ مجھ سے۔ تیرا ہاتھ میرا ہاتھ ہے۔ لوگ دور دور سے تیرے پاس آئیں گے اور خدا کی نصرت تیرے پر اترے گی۔ تیرے لئے لوگ خدا سے الہام پائیں گے اور تیری مدد کریں گے۔ کوئی نہیں جو خدا کی پیشگوئیوں کو ٹال سکے۔اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی اور تیراذ کر بلند کیا گیا۔ خدا تیری حجت کو روشن کرے گا۔ تو بہادر ہے۔ اگر ایمان ثریا میں ہوتا تو تو اس کو پالیتا۔ خدا کی رحمت کے خزانے تجھے دیئے گئے۔ تیرے باپ دادے کا ذکر منقطع ہو جائے گا اور خدا ابتدا تجھ سے کرے گا۔ میں نے ارادہ کیا کہ اپنا جانشین بناؤں تو میں نے آدم کو یعنی تجھے پیدا کیا ہے۔ آواہن { خدا تیرے اندر اتر آیا } خدا تجھے ترک نہیں کرے گا اور نہ چھوڑے گا جب تک کہ پاک اور پلید میں فرق نہ کرے۔ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا پس میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں۔ تو مجھ میں اور تمام مخلوقات میں واسطہ ہے۔ میں نے اپنی روح تجھ میں پھونکی۔ تو مدد دیا جائے گا اور کسی کو گریز کی جگہ نہیں رہے گی۔ تو حق کے ساتھ نازل ہوا اور تیرے ساتھ نبیوں کی پیشگوئیاں پوری ہوئیں۔ خدا نے اپنے فرستادہ کو بھیجا تا اپنے دین کو قوت دے اور سب دینوں پر اس کو غالب کرے۔ اس کو خدا نے قادیاں کے قریب نازل کیا اور وہ حق کے ساتھ اترا اور حق کے ساتھ اتارا گیا۔ اور ابتدا سے ایسا ہی مقرر تھا ۔ تم گڑھے کے کنارے پر تھے خدا نے تمہیں نجات دینے کے لئے اسے بھیجا۔ اے میرے احمد تو میری مراد اور میرے ساتھ ہے۔ میں نے تیری بزرگی کا درخت اپنے ہاتھ سے لگایا۔ میں تجھے لوگوں کا امام بناؤں گا اور تیری مدد کروں گا۔ کیا لوگ اس سے تعجب کرتے ہیں۔ کہہ خدا عجیب ہے چن لیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا۔