کتاب البریہ — Page 89
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۸۹ كتاب البرية انجیل میں کسی قدر اخلاقی تعلیم ہے تو سہی جو توریت اور طالمود سے لی گئی ہے مگر بہت بے ٹھکانہ اور بے سروپا ہے۔ اور کاش اگر وہ کسی قانون کے نیچے نتظم ہوتی تو کیسی کارآمد ہو سکتی مگر اب تو حکیمانہ نظر میں نہایت مکروہ چیز ہے۔ اور یہ سارا نقصان قانون کے چھوڑنے سے ہے جو انتظام اور ترتیب قواعد کے استعمال سے مراد ہے۔ یہ خیال ایک سخت نادانی ہے کہ دین صرف ان چند بے سروپا باتوں کا نام ہے جو انجیل میں درج ہیں۔ بلکہ وہ تمام امور جو تکمیل انسانیت کے لئے ضروری ہیں دین میں داخل ہیں۔ جو باتیں انسان کو وحشیانہ حالت سے پھیر کر حقیقی انسانیت سکھلاتی یا عام انسانیت سے ترقی دے کر حکیمانہ زندگی کی طرف منتقل کرتی ہیں اور یا حکیمانہ زندگی سے ترقی دے کر فنا فی اللہ کی حالت تک پہنچاتی ہیں انہیں باتوں کا نام دوسرے لفظوں میں دین ہے۔ ایک اعتراض میں نے انجیلوں پر یہ کیا تھا کہ انجیلوں میں صرف اسی قسم کے جھوٹ جو یسوع کے اس حصہ عمر کے متعلق ہیں جن میں اس نے اپنے تئیں ظاہر کیا۔ بلکہ یسوع کی پہلی (۶۵) زندگی کی نسبت بھی انجیلوں کے لکھنے والوں نے عمداً جھوٹ بولا ہے اور اس کے ان واقعات کو ظاہر کرنا انہوں نے مصلحت نہیں سمجھا جو اس کی اس زندگی کے متعلق ہیں جو اس کے دعوے سے پہلے گزر چکی تھی ۔ حالانکہ ایسا شخص جس نے خدائی کا دعوی کیا تھا اس کی اس عمر کا وہ پہلا اور بڑا حصہ بھی بیان کرنے کے لائق تھا جس میں قریباً کل عمر اس کی کھپ چکی تھی اور صرف بقول عیسائیاں تین برس اس کی عمر سے باقی رہ گئے تھے تا دیکھا جاتا کہ اُس تمہیں برس کی عمر میں کس طرح کے چال چلن سے اس نے زندگی بسر کی اور کس طور سے خدا کا معاملہ اس سے رہا اور کس کس قسم کے عجائبات اس سے ظہور میں آئے مگر افسوس کہ انجیل نویسوں نے اس حصہ کا نام بھی نہ لیا۔ ہاں لوقا باب اول میں اس قدر لکھا ہے کہ فرشتہ نے مریم پر ظاہر ہو کر اس کو بیٹے کی خوشخبری دی اور کہا کہ اس کا نام عیسی رکھنا۔ لیکن یہ قصہ لوقا کی خود تراشیدہ بات معلوم ہوتی ہے کیونکہ اگر یہ قصہ صحیح ہوتا تو پھر مریم اس کی ماں جس کو فرشتہ نظر آیا تھا اور اُس کے بھائی جو